کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 630

کتاب البریہ — Page 349

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۴۹ خدام اور احباب اور یا تاجر اور یا وکلاء اور یا تو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں یا ان کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں۔ جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور یا ستجاده نشینان غریب طبع۔ غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جوسرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں۔ اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ ان میں سے اپنے چند مریدوں کے نام بطور نمونہ آپ کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں لکھ دوں۔ (۵) میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر چہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہیں عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالیہ کی تو جہات پر چھوڑ کر بالفعل ضروری استغاثہ یہ ہے کہ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجه اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز (۱۳) حکام تک پہنچاتے ہیں اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم میرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سرلیپل گرفن کی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو