کتاب البریہ — Page 346
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۴۶ گو ہماری گورنمنٹ محسنہ اس بات سے روکتی نہیں کہ مسلمان بالمقابل جواب دیں لیکن اسلام کا مذہب مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی مقبول القوم نبی کو بُرا کہیں بالخصوص حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت جو پاک اعتقاد عام مسلمان رکھتے ہیں اور جس قدر محبت اور تعظیم سے ان کو دیکھتے ہیں وہ ہماری گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔ میرے نزدیک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرمادے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بنا پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں۔ اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلم کتابوں پر وارد نہ ہو سکے۔ اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو۔ اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مخالفانہ حملے روک دیئے جائیں۔ ہر ایک شخص صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے کا ذکر زبان پر نہ لاوے۔ اگر گورنمنٹ عالیہ میری اس درخواست کو منظور کرے تو میں یقینا کہتا ہوں کہ چند سال میں تمام قوموں کے کینے دور ہو جائیں گے اور بجائے بغض محبت پیدا ہو جائے گی۔ ورنہ کسی دوسرے قانون سے اگر چہ مجرموں سے تمام جیل خانے بھر جائیں مگر اس قانون کا ان کی اخلاقی حالت پر نہایت ہی کم اثر پڑے گا۔ (۳) تیسرا امر جو قابل گذارش ہے یہ ہے کہ میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی۔ جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ