کتاب البریہ — Page 321
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۲۱ سفیر مذکور کے ساتھ خلوت میں کی گئیں تھیں جو سفیر کوبری معلوم ہوئیں۔ سفیر مذکور نے خلوت کی ملاقات کے لئے خود التجا کی اور اگر چہ مجھ کو اس کی اول ملاقات میں ہی دنیا پرستی کی بد بو آئی تھی اور منافقانہ طریق دکھائی دیا تھا مگر حسن اخلاق نے مجھے بوجہ مہمان ہونے کے اس کے اجازت دینے کے لئے مجبور کیا۔ نامبردہ نے خلوت کی ملاقات میں سلطان روم کے لئے ایک خاص دعا کرنے کے لئے درخواست کی اور یہ بھی چاہا کہ آئندہ اس کے لئے جو کچھ آسمانی قضاء قدر سے آنے والا ہے اس سے وہ اطلاع پاوے۔ میں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔ یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کواپنی بدقسمتی سے بہت بری معلوم ہوئیں۔ میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا۔ که رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے۔ تو بہ کروتا نیک پھل پاؤ مگر میں اس کے دل کی طرف خیال کر رہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنت روم کے اچھے دن نہیں ہیں اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کے علامات موجود ہیں۔ ماسوا اس کے میرے دعوی مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان آئیں۔ میں نے اس کو بار بار سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور کسی خونی مسیح اور خونی مہدی کا انتظار کرنا جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے یہ سب بیہودہ قصے ہیں۔ اس کے ساتھ میں نے یہ بھی اس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کولگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا ہی کہا تھا اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ برطانیہ کا بھی ذکر آیا۔ اور جیسا کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے۔ میں نے اس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتے ہیں اور دلی وفادار اور دلی شکر گزار ہیں کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی دوسری سلطنت کے نیچے ہرگز امید نہیں کہ وہ امن حاصل ہو سکے۔ کیا میں اسلام بول میں امن کے ساتھ اس دعوے کو پھیلا سکتا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود