کتاب البریہ — Page 253
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵۳ سوال حرف S ہے وہ میں نے لکھا ہے اور جواب حرف R ہے وہ مرزا صاحب کا ہے۔ براہین احمدیہ پر ریویو میں نے تصنیف کیا تھا۔ حرف آصفحہ ۷۶ الغایت ۱۸۸۔ اس وقت مرزا صاحب کے حالات اچھے تھے اور میں نے ایسا ہی لکھا تھا اور لکھا تھا کہ مرزا صاحب کے والد نے غدر میں امداد دی تھی۔ كتاب اشاعة السنه جلد ۱۳ حرف U میں میں نے مرزا صاحب کی نسبت کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ مرز اصاحب کو میں مسلمان نہیں سمجھتا د ہر یہ ہے۔ مولوی غلام قادر حفی مجھے کوفتہ انگیز نہیں کہتا اور نہ اہل حدیث کو کافر کہتا ہے۔ ہماری تحریرات اور تعلیمات کی وجہ سے بھی لوگوں میں تنازعات ہیں مگر ایسے نہیں ہیں جس سے خون ہوں۔ عدالت میں بھی مقدمات ہوئے ہیں۔ میں نے سلطان روم ۲۱۹ اگر کوئی شخص ان کے ذلیل اور جھوٹے خیالات سے کراہت کر کے ان کے پنجے سے بچا رہتا ہے تو وہ یورو چین فلاسفروں کے پنجے میں ضرور آجاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ عوام کو پادریوں کے دجل کا زیادہ خطرہ ہے اور خواص کو فلاسفروں کے دجل کا زیادہ خطرہ۔ اب یقیناً سمجھو کہ یہی دجال ہے جس کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا ۔ یہ تو ہرگز ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر کسی میں خدائی کی طاقتیں پیدا ہو جا ئیں ۔ تمام قرآن شریف اول سے آخر تک اس کا مخالف ہے۔ پس دقبال کی خدائی سے مراد یہی امور اور اس کے عجائبات ہیں جو آج کل یورپ کے فلاسفروں سے ظاہر ہورہے ہیں۔ یہی پیشگوئی کا منشا تھا جو ظہور میں آ گیا ۔ دجال کا لفظ بھی بیان کر رہا ہے کہ دجال میں کوئی حقیقی قدرت نہیں ہوگی صرف دجل ہی دجل ہو گا ۔ اب اگر کوئی سعید ہے تو اس بات کو قبول کرے۔ در حقیقت یہ فتنہ جو پادریوں اور یورو چین فلاسفروں سے ظہور میں آیا ہے ایسا فتنہ ہے کہ آدم کے وقت سے آج تک اس کی کوئی نظیر نہیں پائی (۳۹) جاتی ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اس فتنہ سے لوگوں کے ایمان کو ضر ر عظیم پہنچا ہے اور لاکھوں انسانوں کے دلوں سے خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ بعض دلوں پر تو یہ فتنہ پورا محیط