کتاب البریہ — Page 251
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵۱ صفحه ۴۴ پر جو عبارت آخر صفحہ کے درج ہے کہ جھوٹ کی بیخ کنی خدا کرے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹ ضائع ہو گا۔ اس عبارت سے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی خاص ذاتی دشمنی مرزا صاحب کی کلارک صاحب سے ہے۔ مباحثہ مذہبی ہے۔ مذہبی معاملات میں میرا مرزا صاحب سے اتفاق نہیں ہے اس بارے میں انہوں نے کہ مسلمانان و عیسائیوں وغیرہ میں پھوٹ پیدا کرائی ہے۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں یہ ان کی تعلیم کا اثر ہے۔ وہ فتنه انگیز آدمی ہے۔ محمدیوں کے خیالات مذہبی سے میں واقف ہوں۔ اگر کلارک صاحب مرجائیں تو مرزا صاحب کو اپنے تابعین سے بہت عزت ہوگی اور ان کی شراکت ثابت ہوگی ۔ ۲۱۷ عبداللہ آ نظم بعد میعاد فوت ہوا اور انجام آتھم میں مرزا صاحب نے لکھا کہ اس کی پیشگوئی کے مطابق فوت ہوا ہے۔ ۹۵ء میں مظہر کلارک صاحب سے ملا تھا۔ پھر اس کے بعد کبھی نہیں ملا بلکہ ان سے شکایت ہے اور رنج ہے کہ ایک خاص امر کے واسطے ان کو ملا تھا اور انہوں نے ہمدردی نہ کی ۔ میرے بھائی سے وہ کبھی نہیں ملے ۔ میں نے ایک کتاب ۸۰ صفحہ کی لکھی ہے لیکھر ام کے قتل کی بابت۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ لیکھرام کے قتل کی نشاندہی بہت پھیلا ہوا ہے اور یوروپین فلاسفروں کی ایک ایسی عظمت ان کے دلوں میں بیٹھ گئی ہے کہ اگر جھوٹ کے طور پر بھی کوئی شخص مثلاً یہ بیان کرے کہ یورپ کے فلاں ملک میں یہ نئی ایجاد ہوئی ہے کہ وہ ایک حکمت عملی سے آم کے بیج کو زمین میں بو کر اور بعض چیزوں کی قوت اس کو پہنچا کر ایک ہی دن میں اس کو ایسا نشو و نمادے دیتے ہیں کہ پھل بھی لگ جاتا ہے اور شام تک خوب کھانے کے لائق ہو جاتا ہے تو تو تعلیم یافتہ لوگوں میں سے شاید کوئی بھی انکار نہ کرے۔ بہتیرے نادان کہتے ہیں کہ یورپیوں سے کوئی بات انہونی نہیں ۔ ممکن ہے کہ وہ آئندہ زمانہ میں کسی حکمت عملی سے آسمان تک بھی پہنچ جائیں۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ چند تجربوں سے کسی شخص کی قوت اور قدرت ایسی مان لیتا ہے کہ مبالغہ کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی حال اس ملک کے اکثر لوگوں کا ہورہا ہے۔ مثلاً (۲۱۷) اگر چند کس جو معتبر ہوں محض ہنسی کے طور پر ہندوستان کے ایک مشہور رئیس اور معزز نامور