کتاب البریہ — Page 204
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۴ اع ) بمبئی۔ ملتان ۔ پشاور میں نالشات ہوئی تھیں یا نہ۔ عبداللہ آتھم کی بابت پیشگوئی اس کی درخواست پر نہیں کی گئی تھی۔ مرزا صاحب نے زبردستی یہ پیشگوئی کی تھی ۔ عبداللہ آتھم کی تحریر کو ہم پہچانتے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اور لوگوں کے برخلاف درخواست یا بلا درخواست پیشگوئیاں مرزا صاحب نے کی تھیں۔ میں اپنے اصلی باپ کا نام نہیں جانتا۔ میں ہمیشہ سے عیسائی ہوں ۔ ہم نے کبھی عبدالحمید سے نہیں کہا تھا کہ مرزا صاحب کا ایک مرید قادیاں سے آیا ہے اس سے حال تمہارا دریافت کرتے ہیں۔ ( بسوال لالہ رام بھی وکیل استغاثہ ) ہسپتال میں اور بھی متلاشی بھیجے جاتے ہیں۔ عبدالحمید اپنا حال جہلم کا پیشی سے پہلے مقبل ہو گیا تھا اور اس نے اقبال لکھ دیا تھا۔ مولوی نور الدین مرزا صاحب کے ساتھ مل کر قتل کے مشورہ میں شامل ہے ۔ میں لالہ رام بھیج کو ۸ بجے رات کے کل ملا تھا۔ اور فقط مقدمہ کا حال پوچھتے رہے تھے۔ سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم ا ا میرے ساتھ ہو گیا اور ایک گروہ کج فہم مولویوں کے پیچھے لگا اور ایک گروہ ایسا رہا کہ نہ موافق اور نہ مخالف ۔ اور اگر چہ ہمارا گر وہ ابھی بکثرت دنیا میں نہیں پھیلا لیکن پشاور سے لیکر بمبئی اور کلکتہ اور حیدر آباد دکن اور بعض دیار عرب تک ہمارے پیر و دنیا میں پھیل گئے ۔ پہلے یہ گروہ پنجاب میں بڑھتا پھولتا گیا اور اب میں دیکھتا ہوں کہ ہندوستان کے اکثر حصوں میں ترقی کر رہا ہے۔ ہمارے گروہ میں عوام کم اور خواص زیادہ ہیں۔ اس گروہ میں بہت سے سرکار انگریزی کے ذی عزت عہدہ دار ہیں۔ جو ڈ پٹی کلکٹر اور اکسٹرا اسٹنٹ اور تحصیلدار وغیرہ معز ز عہدوں والے آدمی ہیں ایسا ہی پنجاب اور ہندوستان کے کئی رئیس اور جاگیردار اور اکثر تعلیم یافتہ ایف اے۔ بی اے۔ اور ایم اے اور بڑے بڑے تاجر اس جماعت میں داخل ہیں۔ غرض ایسے لوگ جو عقل اور علم اور عزت اور اقبال رکھتے تھے یا بڑے بڑے عہدوں پر سرکار انگریزی کی طرف سے مامور تھے یا رئیس اور جاگیردار اور تعلقہ دار اور نوابوں کی اولاد تھے