کتاب البریہ — Page 193
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۳ شخص بلائے ہوئے آئے تھے ان کے آنے سے پہلے اقبال لکھا ہوا تھا اسی روز رات کی گاڑی میں ہم اس کو اپنے ساتھ لائے اور سلطان ونڈ کے شفا خانہ میں یعنی احاطہ مشن میں رات کو رکھا پہرہ بھی اس پر لگایا تھا کہ مبادا بھاگ نہ جائے اس اقبال کو جب لکھا گیا ہم نے سب سچ سمجھا گویا نہایت ہی سچ سمجھا تھا یہ بالکل ہی ناممکن ہے کہ کسی اور نے اس کو ہمارے پاس بھیجا ہو سوائے مرزا صاحب کے اور نہ یہ ہم نے سمجھا کہ کسی کی ترغیب سے وہ اقبال کر رہا ہے۔ میری رائے پہلے یہ تھی کہ مولوی نور الدین کا کوئی تعلق اس سے نہیں ہے۔ جب عبدالحمید نے مجھ سے بیان کیا تھا۔ جب خط مولوی نور الدین کے نام اس نوجوان نے بھیجا کچھ ہمارا شک ہوا کہ ان کا بھی تعلق ہے گونورالدین سے تعلق کی بابت اب بھی ہم کو شک ہے۔ لیکن جو بیان مرزا صاحب کی نسبت عبدالحمید نے کیا ہے اس کی بابت ہم کو اب بھی کوئی شک نہیں ہے مطلق نہیں ہے جو بیان پہلے لکھنے سے یعنی اقبال سے عبدالحمید نے کیا تھا اس کو ہم نے ۱۲ ) جھوٹ سمجھا تھا یعنی جو بابت ہندو ہونے وغیرہ کے بیان کیا تھا وہ جھوٹا سمجھا تھا باقی بیانات کی بابت نہ ہم نے اعتبار کیا تھا اور نہ بے اعتباری تھی۔ ہندو سے مسلمان ہونے کا جو اس نے بیان کیا تھا یہ بھی جھوٹ سمجھا ہم نے یقین کیا تھا کہ وہ قادیاں سے آیا ہے۔ ہم نے یقین کیا تھا کہ وہ قلی کا کام کرتا رہا ہے اور ہم نے یقین کیا تھا کہ ایک شخص سنا تھا کہ قادیاں میں ہے گرمی سخت پڑتی تھی۔ میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا وَالسّماءِ وَالطَّارق یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور اکھ مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا ۔ سبحان اللہ کیا شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے اس کی وفات کو عزا پر سی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالی کی عزا پرسی کیا معنے رکھتی