کتاب البریہ — Page 130
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۳۰ کتاب البر : سورہ نور کے آخر ایک آیت مصنوعی عائشہ کی بریت کی وارد کر کے پھر صحبت اختیار کی لیکن اس بہتان کی عقل سلیم تکذیب نہیں کر سکتی۔ ۵۸ بارہویں ایک عورت بنی ہلال سے جس کو ( آنحضرت نے ) بے نکاح اور مہر یعنی اجرت یا خرچی کے گھر میں ڈال لیا تھا۔ محمد ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ جو اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کیلئے مصنوعی آیت پیش کر کے اس کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ۲۵ محمد کی چال چلن کسی طرح پیغمبری کے لائق نہیں ٹھہر سکتی ۔ وہ ایک نفس پرست اور کینہ پرور اور خود غرض آدمی تھا اور نفس امارہ کا از حد مطیع تھا۔ اور اسی سبب قرآن اس کی جھوٹی بنائی ہوئی کتاب ہے جو اس کی نفس پرستی اور شہوت کو پشتی دیتی اور پالتی تھی۔ اس میں ایک بھی ایسی آیت نہیں جس میں حکم ہو کہ اے محمد تو کیوں ہوا و ہوس اور نفسانیت کی طرف مائل ہوتا ہے یا کیوں زینب سے عشق کی آنکھ لڑاتا ہے۔ ۸۰ ی محمد کی بناوٹ اور بیہودہ گوئی ہے۔ آنحضرت کے معراج کو مرگی زدہ کا ایک خواب پر یشان ظاہر کر کے یوں لکھا ہے ) اس کے خیال میں یہ گذرا ہوگا کہ۔۔ میں نے اپنے تئیں خاتم النبین ظاہر کیا ہے یہ حیلہ گانٹھنا چاہیے کہ آج رات کو میں ساتوں آسمان اور عرش و کرسی کی سیر کر آیا۔ 92 اس کے (آنحضرت) سارے کاموں میں عیاری ظاہر ہوتی ہے۔ محمد میں تعصب اور مکاری دونوں باتیں کسی قدر پائی جاتی ہیں ۔۔ ساتھ اس کے ایک بے وفا خود غرض دل ۔ حقیقت میں اس کی گفتار اور رفتار اور عمر کے ساتھ بدی میں بڑھ گئی۔ نبی بغیر معجزوں کے۔ ایمان بغیر بھیدوں کے۔ اور اخلاق بغیر محبت کے جس نے خونریزی کے شوق کو ترغیب دیا۔ اور جس کی ابتدا اور انتہا بیحد شہوت پرستی کے ساتھ ختم ہوئی۔ ۱۰۰ اے عزیز و۔۔۔۔ بلکہ آج ہی دین محمدی چھوڑ کے اور اس جھوٹے نبی کی پیروی ترک کر کے