کتاب البریہ — Page 79
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۷۹ كتاب البرية ہوتی ہے۔ اس حالت موجودہ کا نام خدا کی کلام میں جناح ہے جس کو پارسیوں نے مبدل کر کے گناہ بنالیا ہے اور جنح جو اس کا مصدر ہے اس کے معنے ہیں میل کرنا اور اصل مرکز سے ہٹ جانا۔ پس اس کا نام جناح یعنی گناہ اس لئے ہوا کہ انسان اعراض کر کے اس مقام کو چھوڑ دیتا ہے جو الہی روشنی پڑنے کا مقام ہے اور اس خاص مقام سے دوسری طرف میل کر کے ان نوروں سے اپنے تئیں دور ڈالتا ہے جو اس سمت مقابل میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایسا ہی جرم کا لفظ جس کے معنے بھی گناہ ہیں جسم سے مشتق ہے اور جسم عربی زبان میں کاٹنے کو کہتے ہیں پس جُرم کا نام اس لئے جرم ہوا کہ جرم کا مرتکب اپنے تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے کاٹتا ہے اور باعتبار مفہوم کے جرم کا لفظ جناح کے لفظ سے سخت تر ہے کیونکہ جناح صرف میل کا نام ہے جس میں کسی طرح کا ظلم ہو مگر جرم کا لفظ کسی گناہ پر اس وقت صادق آئے گا کہ جب ایک شخص عمد أخدا کے قانون کو توڑ کر اور اس کے تعلقات کی پرواہ نہ رکھ کر کسی نا کر دنی امر کادیدہ و دانستہ ارتکاب کرتا ہے۔ اب جبکہ حقیقی پاکیزگی کی حقیقت یہ ہوئی جو ہم نے بیان کی ہے تو اب اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ گم شدہ انوار جن کو انسان تاریکی سے محبت کر کے کھو بیٹھتا ہے کیا وہ صرف کسی شخص کو مصلوب ماننے سے مل سکتے ہیں؟ سو جواب یہ ہے کہ یہ خیال بالکل غلط اور فاسد ہے بلکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ ان نوروں کے حاصل کرنے کے لئے قدیم سے قانون قدرت یہی ہے جو ہم ان کھڑکیوں کو کھول دیں جو اس آفتاب حقیقی کے سامنے ہیں تب وہ کرنیں اور شعائیں جو بند کرنے سے گم ہو گئی تھیں یک دفعہ پھر پیدا ہو جائیں گی ۔ دیکھو خدا کا جسمانی قانون قدرت بھی یہی گواہی دے رہا ہے۔ اور کسی ظلمت کو ہم (۵۶) دور نہیں کر سکتے جب تک ایسی کھڑکیاں نہ کھول دیں جن سے سیدھی شعائیں ہمارے گھر میں پڑ سکتی ہیں سو اس میں کچھ شک نہیں کہ عقل سلیم کے نزدیک یہی صحیح ہے جو ان کھڑکیوں کو کھولا جائے تب ہم نہ صرف نور کو پائیں گے بلکہ اس مبدء انوار کو بھی دیکھ لیں گے۔