خطبة اِلہامِیّة — Page 54
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۵۴ خطبه الهاميه و فسخ العهد و فک و لوث بطائف من الجن و عهد را بشکست اور عہد کو توڑا و آلوده کرد دل را بوسوسه شیطان اور دل کو شیطان کے وسوسہ سے آلودہ کیا الجنان وانى جئت من الحضرة الرفيعة العالية و من از درگاه اور میں بلند و برتر آمده ام بڑی اونچی درگاہ سے آیا ہوں لیری بی ربى من بعض صفاته الجلالية - والجمالية تا پروردگار من بعض صفات جلالیه خود را بواسطه من بنماید و نیز صفات جمالیه را بنماید تا میرا خدا میرے ذریعہ بعض اپنی جلالی اور جمالی صفتیں دکھلاوے اعنی دفع الضير و افاضة الخير فان الزمان كان یعنی دفع کردن گزند و رسانیدن خیر چرا که زمانه حاجت می داشت یعنی شر کا دور کرنا اور بھلائی کا پہنچانا کیونکہ زمانہ کو اس بات کی حاجت محتاجا الى دافع شر طغى والى رافع خیر انحط که آن بدی را دفع کرده شود که از حد در گذشته است و آن نیکی را بلند کرده آید که فرد رفته تھی کہ اس بدی کو دور کیا جائے جو حد سے بڑھ گئی تھی اور اس نیکی کو بلند کیا جائے جو واختفى - فاقتضت العناية الالهية ان يعطى است و پنہاں گردیدہ ۔ پس عنایت الہیہ تقاضا فرمود که زمانه را جاتی رہی تھی۔ اس لئے خدا کی عنایت نے چاہا کہ زمانہ کو الزمان ماسأل بلسان الحال - ويرحم طبقات آن چیز داده شود که بزبان حال می خواهد و بر مردان وہ چیز دی جاوے ہے وہ اپنی زبان حال سے مانگتا ہے اور مردوں اور