خطبة اِلہامِیّة — Page 43
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۴۳ خطبه الهاميه عَنْ هَذِهِ الْوَصَايَا - وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا فراموش نکنید و ہمیچو آن مردم مشوید که کومت بھلا ؤ اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے رَبَّهُمْ وَالْمَنَايَا - وَقَدْ أُشِيْرَ إِلى هَذَا السِّر خدائے خود را و موت خود را فراموش کرده اند و به تحقیق اشاره کرده شده است اپنے خدا اور اپنی موت کو بھلا رکھا اور اس پوشیدہ بھید کی طرف ہے الْمَكْتُوم - فِيْ كَلَامِ رَبِّنَا الْقَيُّوْمِ - فَقَالَ وَهُوَ در کلام خدائے قیوم سوئے ایں راز پوشیدہ ۔ پس او تعالی گفت و او خدا تعالیٰ کی کلام میں اشارت کی گئی ہے ۔ چنانچہ خدا جو أَصْدَقُ الصَّادِقِينَ - قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي اصدق الصادقین است که بگو که به تحقیق نماز من و عبادت من و قربانی من اصدق الصادقین سے اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ فَانْظُرْ و زندگی من و مُردن من برائے خدائے ربّ عالمیان است پس یہ ہیں اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کیلئے ہے جو پروردگار عالمیاں ہے پس دیکھ كَيْفَ فَسَّرَ النُّسُكَ بِلَفْظِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ که چگونه لفظ نُشک را بلفظ محیا و ممات تفسیر کرده کہ کیونکر نمک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے وَأَشَارَ بِهِ إِلَى حَقِيْقَةِ الْأَضْحَاةِ - فَفَكِّرُوْا فِيْهِ و بدیں تفسیر سوئے حقیقت قربانی اشارت نمودہ ۔ پس در یں نکتہ بیندیشید اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اے عقلمندو! الانعام :١٦٣