خطبة اِلہامِیّة — Page 41
روحانی خزائن جلد ۱۶ ام خطبه الهاميه أُولِي الْأَبْصَارِ وَحُكَمَاءِ الْمِلَّةِ - تَحْقِيقًا لِمَقَامِ الْوَرَاثَةِ صاحبان چشم و حکیمان ملت تا ثابت شود که او وارث اوشان است اہل بصیرت اور حکماء ملت کے تا اس کے لئے مقام وراثت کا متحقق ہو جائے ثُمَّ يَمْكُتُ هَذَا الْعَبْدُ فِي الْأَرْضِ إِلَى مُدَّةٍ شَاءَ بعد زاں این بنده بر زمین توقف می کند تا مدتے کہ خدا تعالیٰ پھر یہ بندہ زمین پر ایک مدت تک جو اُس کے رب کے رَبُّهُ رَبُّ الْعِزَّةِ - لِيُنِيْرَ الخَلْقَ بِنُورِ الْهِدَايَةِ - وَ منور گرداند مخلوق را بنور هدایت خواسته است تا کہ اور ارادہ میں ہے توقف کرتا ہے تا کہ مخلوق کو نور ہدایت کے ساتھ منور کرے إِذَا أَنَارَ النَّاسَ بِنُوْرِ رَبِّهِ أَوْ بَلَّغَ الْأَمْرَ بِقَدَرِ الْكِفَايَةِ چون مردم را بنور پروردگار خود منور کرد یا امر را بقدر کفایت تبلیغ فرمود جب خلقت کو اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن کر چکا یا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کر دیا فَحِيْنَئِذٍ يَتِمُّ اسْمُهُ وَيَدْعُوْهُ رَبُّهُ وَيُرْفَعُ رُوْحُهُ و پس در یں وقت نام او تمام مے شود و می خواند او را خداۓ او و روح او سوۓ پس اُس وقت اس کا نام پورا ہو جاتا ہے اور اس کا رب اس کو بلاتا ہے اور اس کی روح اُس کے إلى نُقْطَتِهِ النَّفْسِيَّةِ - وَهَذَا هُوَ مَعْنَى الرَّفْعِ نقطه او که نفسی است برداشته میشود و ہمیں است معنی رفع نقط نفسی کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور یہی رفع کے معنے ہیں اُن کے نزدیک عِنْدَ أَهْل الْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ - وَالْمَرْفُوْعُ مَنْ يُسْقَى نزد اہل علم و معرفت ۔ جو اہل علم اور معرفت ہیں و کے کہ رفع او سوئے خدا گردید اور مرفوع وہ ہے جس کو اُس محبوب