خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 27

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۷ خطبه الهاميه ایک جز ہے اور دمشق میں واقع ہے جیسا کہ بدقسمتی سے سمجھا گیا بلکہ مطلب یہ تھا کہ مسیح موعود کا نور آفتاب کی طرح دمشق کے مشرقی جانب سے طلوع کر کے مغربی تاریکی کو ڈور کرے گا اور یہ ایک لطیف اشارہ تھا کیونکہ مسیح کے منارہ کو جس کے قریب اس کا نزول ہے دمشق کے مشرقی طرف قرار دیا گیا اور دمشقی تثلیث کو اس کے مغربی طرف رکھا اور اس طرح آنے والے زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی کی کہ جب مسیح موعود آئے گا تو آفتاب کی طرح جو مشرق سے نکلتا ہے ظہور فرمائے گا اور اس کے مقابل پر تثلیث کا چراغ مردہ جو مغرب کی طرف واقع ہے دن بدن پر مردہ ہوتا جائے گا کیونکہ مشرق سے نکلنا خدا کی کتابوں سے اقبال کی نشانی قرار دی گئی ہے اور مغرب کی طرف جانا ادبار کی نشانی اور اسی نشانی کی طرف ایما کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قادیاں کو جو مسیح موعود کا نزول گاہ ہے دمشق سے مشرق کی طرف آباد کیا اور دمشق کو اُس سے مغرب کی طرف رکھا۔ بڑا دھوکا (3) ہمارے مخالفوں کو یہ لگا ہے کہ انہوں نے حدیث کے لفظوں میں یہ دیکھ کر کہ مسیح موعود اس منارہ کے قریب نازل ہوگا جو دمشق کی شرقی طرف ہے یہ سمجھ لیا کہ وہ منارہ دمشق میں ہی واقع ہے حالانکہ دمشق میں ایسے منارہ کا وجود نہیں اور یہ خیال نہیں کیا کہ اگر کہا جائے کہ اگر مثلاً فلاں جگہ فلاں شہر کے شرقی طرف ہے تو کیا ہمیشہ اس سے یہ مراد ہوا کرتا ہے کہ وہ جگہ اس شہر سے پیوستہ ہے؟ اور اگر حدیث میں ایسے لفظ بھی ہوتے جن سے قطعی طور پر یہی سمجھا جاتا کہ وہ منارہ دمشق کے ساتھ پیوستہ ہے اور دوسرے احتمال کی راہ نہ ہوتی تاہم ایسا بیان دوسرے قرائن کے مقابل پر قابل قبول نہ ہوتا۔ مگر اب چونکہ حدیث پر غور کرنے سے صاف طور پر سمجھ آتا ہے کہ اس حدیث کا صرف یہ منشا ہے کہ وہ منارہ دمشق کی شرقی طرف ہے نہ در حقیقت اُس شہر کا ایک حصہ تو دیانت سے بعید اور عقلمندی سے دُور ہے کہ خدا تعالیٰ کی اُن حکمتوں اور بھیدوں کو نظر انداز کر کے جن کو ہم نے اس اشتہار میں بیان کر دیا ہے بیوجہ اس بات پر زور ڈالا جائے کہ وہ منارہ جس کے قریب مسیح کا نزول ہے وہ دمشق میں واقع ہے