خطبة اِلہامِیّة — Page 291
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۹۱ خطبه الهاميه يتم هذا الأمر عـلـى الـمـسـجـد الأقـصـى الـذي پر اقصی با تمام رسید آں امر مسجد اقصیٰ تمام ہوگا وہ مسجدے کہ مسجد يبلغ فيه نور الدين إلى أقصى المقام كالبدر التام، ور وے نوردین تا بمقام اقصر مانند ماه چہار دہم برسید و جس میں دین کا نور اقصیٰ کے مقام تک پورے چاند کی طرح پہنچے گا۔ ويلزمه كل بركة يُتوقع ويُتـصـور عـنـد كمال (197) وقت کمال کہ بالائے آں کمالے نباشد متوقع بر کتے کہ در ہر اور ہر ایک برکت جو ایسے کمال کے وقت میں جس کے اوپر کوئی کمال نہ ہو تصور میں ليس فوقه كمال، وهذا وعد من الله العلام ۔ و متصور می گردد وے را لازم باشد و این وعده ایست از خدائے علیم اس کے لازم حال ہوتی ہے اور خدائے علیم کا وعدہ ہے۔ فكان المسجدا ام يُبشــر بـدفـع الشــر پس پس حرام مژده دفع حرام شر کے دور شر ہونے والحفظ من المكروهات، وأما المسجد الأقصى محفوظ اور مکروہات ماندن از مکروہات ے وہر ولے مسجد اقصر اقصیٰ کا سے محفوظ رہنے کا مژدہ دیتی ہے لیکن فيشيـــر مـفهـومـه إلـى تـحـصـيـل الـخـيــرات وأنواع پس مفہوم وے اشارہ مے کند بایں کہ برکات گونا گوں و خیرات بوقلموں مفہوم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رنگ برنگ کے برکات اور خیرات