خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 289

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۸۹ خطبه الهاميه بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا 66 L الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ ، “ ففكر في هذه الآية ولا پس دریں آیت فکر مکن و مانند غافلاں پس اس آیت میں فکر کر اور غافلوں کی طرح تمرّ كالغافلين۔ وإن في لفظ ”الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ از پیش وے مگذر و ور لفظ حرام اس کے آگے ނ مت گزر اور مسجد حرام کے لفظ میں " ولفظ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الذى جُعِل من وصفه بــاركـــنــــا حــولــــ در وصف وے و مسجد اقصی که اور مسجد اقصیٰ کے لفظ میں جس کے وصف میں جملة ”بَارَكْنَا حَوْلَهُ إِشارة لطيفة للمتفكرين، مذکور شده اشارت لطیف است برائے آنکه فکر می کنند باركنا حوله مذکور ہوا ہے۔لطیف اشارہ ہے ان کے لئے جوفکر کرتے ہیں۔ وهو أن لفظ "الحرام" يدل على أن الكافرين اور = اینکه لفظ حرام وا نماید که پر کافراں ہے کہ لفظ حرام ظاہر کرتا ہے کہ کافروں پر بات حرام کرده شده بود که م في زمن النبي عـلـيـه الســلام (۱۹۵ اور زمانہ نبی کریم علیہ الصلوة و السلام حرام کی گئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بنی اسرائیل ۲