خطبة اِلہامِیّة — Page 276
روحانی خزائن جلد ۱۶ خطبه الهاميه قوله لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ، ففكر فكرة قول خداوندی لقد نصر الله ببدر ۔ پس نگاه بار یک دریں امر بفرما خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصركم الله ببدر - پس اس امر میں بار یک نظر سے غور کر (۸۵) كاملة ولا تــكــن مـن الغافلين۔ وإن لفظ "لَقَدْ واز غافلاں مباش۔ و ہر آمینه لفظ اور غافلوں سے نہ ہو اور ہے نصر لقد لقد نصر قد أتى هنا على وجه آخر أعنى بمعنى آمده اینجا از روئے وجہ دیگر و معنی بمعنى ينصركم کا لفظ یہاں دوسری وجہ کے رو سے ینصرکم کے معنوں میں آیا ہے۔ ينصركم كما لا يخفى على العارفين فحاصل الكلام چنانکه جیسا بر عارفاں ظاہر الغرض عارفوں ظاہر ہے۔ الغرض أن الله كان قدقدر للإسلام العزّتين بعد الذلّتين على رغم خدا تعالیٰ برائے اسلام بعد از دو ذلت دو عزت اندازه کرده بود بر خلاف یهود خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے دو ذلت کے بعد دو عزتیں رکھی تھیں یہود کے برخلاف اليهود الذين كان قدّر لهم الذلّتين بعدالعزّتين نكالامن کہ برائے اوشاں بطور سزا و پاداش بعد از دو عزت دو ذلت اندازه کرده بود کہ ان کے لئے سزا کے طور ذلتیں مقرر کی تھیں عزتوں کے بعد دو رو عنده كما تقرء ون في سورة بني إسرائيل قصة الفاسقين منهم چنانکہ ور سوره بنی اسرائیل قصه فاسقان ' ظالمان را جیسا کہ بنی اسرائیل کی سورۃ میں اُن کے فاسقوں اور ظالموں کا قصہ