خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 256

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵۶ خطبه الهاميه 19 ذالك لـيـعـلـم الـنـاس أن الـلـه هـو الأحـد الـفـرد و ایس بہت آس ست که مردم بدانند که خدائے یگانہ و یکتا است کہ لوگ جان لیں کہ خدا واحد اور یکتا ہے اور اس لئے الذي صبغ كلّ مـا خـلـقــه بصبغ الأحدية، آنکه ہمہ را است آفرینش برنگ یگانگی رنگین گردانیده جس نے ساری مخلوقات کو یگانگت کے رنگ سے رنگ دیا ہے وليعرفوا أنه هو ربّ العالمين۔ وحاصل الكلام و بجهت آنکه بشناسند که پروردگار جہاں و جہانیاں ہماں است و حاصل کلام آں کہ اور اس لئے تا کہ پہچان لیں کہ جہانوں کا پروردگار وہی ہے۔ اور حاصل کلام یہ کہ أن الله وتريحبّ الوتر، فاقتضتُ وَحدتُه أن دوست خدا یکتاست و یکتائی را دارد لا جرم یکتائی او خواست که خدا اکیلا ہے اور ایک ہونے کو دوست رکھتا ہے۔ اس لئے اُس کی یکتائی نے چاہا کہ يكون الإنسان الذى هو خاتم الخلفاء مشابها انسان خاتم خلفاء باشد مشابه وہ انسان خلیفوں جو کا خاتم ہو اُس بآدم الذى هو أوّل مَن أُعطي خلافةً عُظمى و باں آدم آدم کے مشابہ بشود اول ہو جو سب خلیفوں کا خلفاء بود تھا اور أوّلُ مَن نُفخ فيه الروح من ربّ الورى، ليكون و اول کسے از مخلوقات بود که در وے روح دمیده شده بود و این بجهت آں کرد که مخلوقات میں اوّل شخص تھا جس میں خدا نے روح پھونکی گئی ہی تھی اور اس لئے کیا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” پھونکی تھی “ ہونا چاہیے۔(ناشر ) نہ