خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 217

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۱۷ خطبه الهاميه وقد فعلتم بی کمثله، فهل بقى هوًى لكم يا حزب اکنوں شما با من ہماں طور معاملہ کردید آیا اے گروہ دشمناں ! چیزے آرزو اب تم نے اسی طرح میرے ساتھ معاملہ کیا۔ اے دشمنوں کے گروہ! کیا کچھ آرزو تمہارے العدا أن تُكفّروا وتكذبوا وتؤذوا كمثلى نفسًا و تمنا در دل شما باقی است که می خواهید که بار دگر مثل من شخص دیگر را تکفیر و تفسیق بکنید و دل میں باقی ہے جو چاہتے ہو کہ پھر دوسری دفعہ میرے جیسے دوسرے شخص کی تکفیر اور تفسیق کرو أخرى؟ وقد شهدت ألسنكم وأقلامكم حالانکہ زبان ہائے شما و قلم ہائے شما و فریب ہائے شما همگی گواہی اور اس کو ستاؤ حالانکہ تمہاری زبانوں اور تمہاری فلموں اور تمہارے فریبوں نے اس بات پر گواہی ومـكـائـدكـم أنـكـم أتممتم على ما أشير إليه في آزار بدهید ے دہند بر این که شما در حق من ہمہ آنرا با تمام رسانیده اید که در سوره فاتحه اشارت دے دی کہ تم نے میرے حق میں وہ سب کچھ پورا کر لیا ہے جس کا سورۃ فاتحہ میں اشارہ ہے سورة الفاتحة، فارحموا مسيحا آخر وأقيلوه من باں پس رفته پس اے منتظراں پر انتظار کرنے والو اے مسیح دیگر رحم آرید رحم کرو دوسرے مسیح هذه العزّة أيها المنتظرون أما شبعتم و ازین عزت و احتر وی را معاف بدارید آیا بایں قدر که بجا آوردید اور اس عزت اور احترام سے اس کو معاف رکھو کیا اتنے تمہارا پیٹ بهذا القدر؟ أتريدون أن ينزل عيسى ابن مريم ہنوز سیر نشده اید آیا نہیں بھرا کیا چاہتے مے خواهید که مسیح ابن مریم از آسمان ہو که مسیح ابن مریم آسمان