خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 205

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۰۵ خطبه الهاميه , فأين تفرون؟ وما كفر اليهود بالمسيح إلا راه گریز بر شما بند گردیده - یہود کفر با مسیح بایں گمان کردند اور بھاگنے کی راہ تم بند ہوئی۔ یہودیوں نے مسیح کے ساتھ کفر اس گمان لزعمهم أنه خالف عقيدتهم وما جاء كما كانوا او و یہ آن طریق نیامد که خلاف عقیدہ ہائے اوشاں کرد سے کیا کہ اس نے ان کے عقیدوں کے خلاف کیا اور اس طرح سے نہیں آیا جیسا بہ يترقبون، ولزعمهم أنه ليس من بني إسرائيل وخانت او شاں امید و انتظار می داشتند و نیز این گمان که او از بنی اسرائیل نیست کہ ان کو امید اور انتظار تھا اور اس گمان سے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں أمُّه فغضب الله عليهم فهلک القوم المفسدون۔ و مادرش خیانت کرده ازیں سبب خدا بر ایشاں خشمناک شد پس آں تنبه کاران ہلاک اور اس کی ماں نے خیانت کی ہے خدا ان پر غضبناک ہوا پس قوم ہلاک مفسد فاذكروا الفاتحة التي تقرء ونها في كل ركعة گردیدند اکنوں آں فاتحہ را ور ہر رکعت ہو گئی اس فاتحہ کو جسے ہر رکعت میں پڑھتے ہو وليست الصلاة إلا بالفاتحة، فاحملوا ما حملتم (۱۳۲) می خوانید یاد بکنید و هیچ نماز غیر از فاتحه راست نمی آید پس بر دوش خود درست نہیں ہوتی۔ پس اب اپنی پیٹھ یاد کرو اور کوئی نماز فاتحہ کے بغیر اٹھاؤ فيها ولا تكونوا كالذين يقولون ولا يفعلون۔ بردارید آنچه خدا در فاتحه بر شما بار کرد و مانند آنان مشوید که می گویند و نمی کنند جو خدا نے تم پر فاتحہ میں ڈالا اور ان کی طرح نہ ہو جاؤ جو کہتے ہیں اور نہیں کرتے