خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 196

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۶ خطبه الهاميه وقبلوه بصدق الطوية والجنان ۔۔ أعنى المسيح را پذیرفتند یعنی آں مسیح کو قبول کیا یعنی اس مسیح الذي خَتِمَتُ عليه هذه السلسلة، وهو المقصود بروی این سلسلہ ختم جس پر سلسلہ ختم ہوا و ہماں مقصود اور انعمت علیہم وہی مقصود اعظم الأعظم من قوله أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ كما تقتض كما تقتضى المقابلة از انعمت علیہم بست چ کہ مقابلہ اقتضائے ہمیں معنی ہے کیونکہ مقابلہ اسی کا مقتضی ہے ولا ينكره المتدبّرون۔ فإنّه إِذا عُلِمَ بالقطع واليقين می کند پر و تدبر کننده نمی تواند که انکار این معنی کند اور تدبر کرنے والے انکار نہیں کر سکتے۔ اس کا (۱۳۵) والتصريح والتعيين أن المغضوب عليهم هم اليهود الذين كفروا المسيح وحسبوه من الملعونين ہماں یہود هستند که مسیح را بکفر نسبت دادند و ملعونش وہی یہودی ہیں جنہوں نے مسیح کو کافر کہا اور اس كما يدل عليه قرينة قوله الضَّالِّينَ پنداشتند چنانچه قرینه قول الضالین پر این دلالت ے ملعون جانا جیسا کہ الضالین کا لفظ اس دلالت کرتا پر ہے۔