خطبة اِلہامِیّة — Page 192
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۲ خطبه الهاميه وإشارةً إلى نباً قدره، فقد جاء كم مسيحكم اشارت بسوئے خبرے کہ مقدر بود این دعا شمارا تعلیم کرد۔ بنا براں مسیح شما پیش شما خبر کی طرف جو مقدر تھی اشارہ کے لئے یہ دعا تم کو سکھائی۔ پس تمہارا مسیح تمہارے پاس آ گیا۔ فإن لم تنتهوا فسوف تسألون ۔ وثبت بیامد اکنون اگر از تعدی دست باز نه داشتید البته ماخوذ خواهید شد و ازیں مقام اگر تم ظلم سے باز نہ آئے تو ضرور پکڑے جاؤ گے اور اس مقام من هذا المقام أن المراد من المغضوب عليهم از مغضو ثابت شد مراد خدا کے نزدیک مغضوب ثابت ہوا ނ الله العلام هم اليهود الذين فرّطوا خدا آں یہود هستند ور سے وہ یہودی مراد ہیں جنہوں نے ان لفظ المغضوب عليهم قد حذى لفظ الضالين۔ اعنی وقع ذالک تحقیق لفظ علیهم بالمقابل لفظ ضالین است۔ یعنی آں لفظ بمقابلہ علیہم ضالین کے لفظ کے مقابل میں ہے یعنی وہ لفظ اس لفظ کے لفظ مغضوب بحذاء هذا كما لا يخفى على المبصرين۔ فثبت بالقطع و اليقين ایس لفظ افتاده چنانچه بر بینندگان پوشیده نیست پس بقطع و یقین ثابت شد که مقابل پڑا ہے جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس قطع اور یقین سے ثابت ہو گیا کہ ان مغضوب عليهم هم الذين فرّطوا في امر عيسى ۔ بالتكفير علیہم آں یہود اند که در امر عیسی تفریط کردند و کافر گفتند علیہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کے بارے میں تفریط کی اور کافر قرار دیا مغضوب مغضوب " الحاشية