خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 186

روحانی خزائن جلد ۱۶ ΔΥ خطبه الهاميه لعلكم ترحمون ۔ ومـا مـن قـضـيـة أصر عليها تا پر شما رحم بشود و ہر قضیه که اہل زمین براں اصرار تا تم پر رحم کیا جائے اور ایسا ہر ایک جھگڑا جس میں اہل زمین ض إلا قضيت في آخر الأمر في أهل الأرض بورزند لازماً آخر کار آسمان ور فیصل کرده ے اصرار کریں آخر کار آسمان میں اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ السماء ، وتلك سُنة لا تبديل لها أيهـا ہرگز اے ظالمان! ایں سنتِ خداست کہ گا ہے تبدیل نشده است جو کبھی نہیں بدلی۔ ہرگز ظالمو! خدا کی سنت ہے الظالمون ۔ وما كان الله ليترك الحق وأهله ممکن نیست که خدا حق را و اہل حق را بگذارد تا آنکه ممکن نہیں کہ خدا حق کو اور اہل حق کو چھوڑ دے جب تک حتى يميز الخبيث من الطيب، فما لكم ناپاک ناپاک کو را پاک از پاک جدا نه سازو۔ جدا کرے۔ : لا تبصرون؟ وإن أى كاذبا فعلى كذبي، وإِنْ أَكُ اگر من کاذب هستم و بال کذب من بر سر من فرود آید و اگر من صادق هستم اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے جھوٹ کا وبال میرے سر پر پڑے گا اور اگر میں سچا ہوں صادقًا فأخاف أن يمسّكم نَصَبٌ من ال الله، وإنه لا مے ترسم که شما را از طرف خدا رنج درو پرسید مقرر است تو میں ڈرتا ہوں کہ تم پر خدا کی طرف سے عذاب نازل ہو۔ اور یہ پکی بات ہے