خطبة اِلہامِیّة — Page 113
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۱۳ خطبه الهاميه وان الظن لا يـغـنـي مـن الـحـق شيئًا - وقد علمتم و ظاهر است که محض گمان کردن قائم مقام یقین نمے شود و به تحقیق دانسته اید اور یہ ظاہر ہے کہ محض گمان قائم مقام یقین کے نہیں ہوتا اور بہ تحقیق تم نے جان لیا ان القرآن اهلكة وتوفى – فبأي حديث تؤمنون کہ قرآن عیسی علیہ السلام را وفات داده است پس بعد از قرآن بکدام حدیث کہ قرآن نے عیسی علیہ السلام کو وفات دیدی ہے اب بعد قرآن کے کس حدیث پر بعده وتكفرون بما انزل الله واوحى –ا تتركون و ایمان خواهید آورد آیا برائے حدیث انکار قرآن خواهید کرد که از خدا تعالیٰ نازل شده است - آیا ایمان لاؤ گے آیا حدیث کیلئے قرآن کا انکار کرو گے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ کیا اليقين لظن اهلک قبلکم قوما و اردی - یا برائے گمانے کہ قوم یہود را پیش از شما ہلاک کر د یقین را ترک خواهید کرد؟ اس گمان کے لئے جس نے تم سے پہلی قوم یہود کو ہلاک کیا یقین کو ترک کرو گے؟ حسرة على الذين يقولون انا نحن العلماء کمال حسرت بر عالمان این وقت است اس وقت کے علماء پر بڑا افسوس ہے انهم ما صاروا من انصاری بل صاروا اوّل کہ اوشاں کہ وہ انصار من نشده اند بلکہ پیش از همه میرے مددگار نہ ہوئے بلکہ سب سے پہلے من اذى - ليتــمـوا نبأ الرسول بالسنهم مرا ایذا دادند تا کہ آن خبر را بز بانہائے خود با تمام رسانند مجھے تکلیف دی تا کہ اس پیشگوئی کو اپنے مونہہ سے پورا کریں