خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 71

روحانی خزائن جلد ۱۶ اے خطبه الهاميه تسئل كل نفس وتدان - البلايا كثيرة ولا يـنـجـيكم قریب آمد کہ ہر نفس از اعمال خود پرسیده شود و جزا داده آید ۔ بلا با بسیاراند و هیچ کس نزدیک ہے کہ ہر ایک جان اپنے کاموں سے پوچھی جائے اور بدلہ دی جائے۔ بلا ئیں بہت ہیں اور تمہیں الا الايمان - والـخـطــايــا كبيرة ولا تذوبها الا بجز ایمان نجات نخواهد یافت و خطا با بزرگ اند و آنها را نخواهد گداخت مگر ۔ صرف ایمان نجات دے گا اور خطائیں بڑی ہیں اور ان کو گداز نہیں کرے گا مگر الذوبان - اتقوا عذاب الله ايها الاعوان - ولمن گداختن ۔ اے انصار من از عذاب خدا بترسید گداز ہو جانا خدا کے عذاب سے اے میرے انصار ڈرو و ہر کہ اور جو خاف مقام ربه جنتان - فلا تقعدوا مع الغافلين پس ہمچو غافلاں منشینید بترسد برائے او دو بہشت اند خدا سے ڈرے ان کے لئے دو بہشت ہیں پس غافلوں کے ساتھ مت بیٹھو والــذيــن نـسـوا الـمنـايا - وسارعوا الى الله واركبوا و ہمچو آنان نباشید کہ موتہائے خود را فراموش کرده اند وسوئے خدا بسرعت تمام حرکت کنید و بر ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی موتوں کو بھلا رکھا ہے۔ خدا کی طرف دوڑو اور تیز رفتار گھوڑوں پر عـلـى اعـدى الـمـطـايـا - واتركوا ذوات الضلع و سواری ہائے تیز رفتار سوار شوید واسپان لنگ را بگذارید و ناقہ ہائے لاغر را سوار ہو جاؤ ایسے گھوڑوں کو چھوڑ و جولنگڑا کے چلتے ہیں الرذايا - تصلوا الى ربّ البرايا - خذوا الانقطاع ترک کنید تا خدائے خود را بیابید - لازم گیرید بریدن را تا اپنے خدا کو ملو خدا کی طرف منقطع ہو جانا عادت پکڑو ۳۷