کشتیءنوح — Page 55
روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح ایک خون کا مقدمہ بھی بنایا گیا جس کی میرے خدا نے مجھے پہلے خبر دے دی تھی وہ مقدمہ جو میرے پر بنایا گیا وہ حضرت عیسی ابن مریم کے مقدمہ سے بہت سخت تھا کیونکہ حضرت عیسی پر جو مقدمہ کیا گیا اس کی بنا محض ایک مذہبی اختلاف پر تھی جو حاکم کے نزدیک ایک خفیف بات تھی بلکہ کچھ بھی نہ تھی مگر میرے پر جو مقدمہ کھڑا کیا گیا وہ اقدام قتل کا دعوی تھا اور جیسا کہ مسیح کے مقدمہ میں یہودی مولویوں نے جا کر گواہی دی تھی ضرور تھا کہ اس مقدمہ میں بھی کوئی مولویوں میں سے گواہی دیتا اس لئے اس کام کے لئے خدا نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو انتخاب کیا اور وہ ایک بڑا لمبا جبہ پہن کر گواہی کے لئے آیا اور جیسا کہ سردار کا ہن میسیج کو صلیب دلانے کے لئے عدالت میں گواہی دینے کے لئے آیا تھا یہ بھی موجود ہوئے صرف فرق اس قدر تھا کہ سردار کا ہن کو پیلاطوس کی عدالت میں کرسی ملی تھی کیونکہ یہودیوں کے معزز بزرگوں کو گورنمنٹ رومی میں کرسی ملتی تھی اور بعض ان میں سے آنریری مجسٹریٹ بھی تھے اس لئے اس سردار کا ہن نے عدالت کے قواعد کے لحاظ سے کرسی پائی اور مسیح ابن مریم ایک مجرم کی طرح عدالت کے سامنے کھڑا تھا۔ لیکن میرے مقدمہ میں اس کے برعکس ہوا یعنی یه که برخلاف دشمنوں کی امیدوں کے کپتان ڈگلس نے جو پیلاطوس کی جگہ عدالت کی کرسی پر تھا مجھے کرسی دی اور یہ پیلاطوس مسیح ابن مریم کے پیلاطوس کی نسبت زیادہ با اخلاق ثابت ہوا کیونکہ عدالت کے امر میں وہ دلیری اور استقامت سے عدالت کا پابند رہا اور بالائی سفارشوں کی اُس نے کچھ بھی پروانہ کی اور قومی اور مذہبی خیال نے بھی اس میں کچھ تغیر پیدا نہ کیا اور اس نے عدالت پر پورا قدم مارنے سے ایسا عمدہ نمونہ دکھایا کہ اگر اس کے وجود کو قوم کا (۵۲) فخر اور حکام کے لئے نمونہ سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا عدالت ایک مشکل امر ہے جب تک انسان تمام تعلقات سے علیحدہ ہو کر عدالت کی کرسی پر نہ بیٹھے تب تک اس فرض کو عمدہ طور پر ادا نہیں کر سکتا مگر ہم اس بچی گواہی کو ادا کرتے ہیں کہ اس پیلاطوس نے اس فرض کو پورے طور پر ادا کیا۔ اگر چہ پہلا پیلاطوس جو رومی تھا اس فرض کو اچھے طور پر ادا نہیں کر سکا اور اس کی