کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 566

کشتیءنوح — Page 16

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۶ کشتی نوح نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمد یت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی بیخ سے جدا ہے پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم ہو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہوا گر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔ سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں اور اس میں دورنگی نہیں آئی اور تم یقیناً سمجھو کہ عیسی بن مریم فوت ہو گیا ہے۔ اور کشمیر سرینگر محلہ خانیات میں اس کی قبر ہے خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں اس کے مرجانے کی خبر دی ہے اور اگر اس آیت کے اور معنی ہیں تو عیسی بن مریم کی موت کی قرآن میں کہاں خبر ہے۔ مرنے کے متعلق جو آیتیں ہیں اگر وہ اور معنی رکھتی ہیں جیسا کہ ہمارے مخالف سمجھتے ہیں تو گویا قرآن نے اس کے مرنے کا کہیں ذکر نہیں کیا کہ وہ کسی وقت مرے گا بھی۔ خدا نے ہمارے نبی کے مرنے کی خبر دی مگر سارے قرآن میں عیسی کے مرنے کی خبر نہ دی۔ اس میں کیا راز ہے اور اگر کہو کہ عیسی کے مرنے کی اس آیت میں خبر ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ سو یہ آیت تو صاف دلالت کرتی ہے کہ وہ عیسایوں کے بگڑنے سے پہلے مر چکے ہیں غرض اگر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے یہ معنی ہیں کہ مع جسم زندہ عیسی کو آسمان پر اُٹھا لیا تو کیوں خدا نے ایسے شخص کی موت کا سارے قرآن میں ذکر نہیں کیا جس کی زندگی نوٹ: عیسائی محققوں نے اسی رائے کو ظاہر کیا ہے دیکھو کتاب سو پر نیچرل ریلیجن صفحه ۵۲۲- اگر تفصیل چاہتے ہو تو ہماری کتاب تحفہ گولڑویہ کا صفحہ ۱۳۹ دیکھ لو ۔ منہ اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پھر دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ دنیا میں آنے والے ہوتے تو اس صورت میں یہ جواب حضرت عیسی کا محض جھوٹ ٹھہرتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں جو شخص دوبارہ دنیا میں آیا اور چالیس برس رہا اور کروڑ با عیسائیوں کو دیکھا جو اس کو خدا جانتے تھے اور صلیب توڑا اور تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا وہ کیونکر قیامت کو جناب الہی میں یہ عذر کر سکتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں ۔ منہ المائدة : ۱۱۸