کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 566

کشتیءنوح — Page 5

روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح طاعون کے حملہ سے بچارہے گا اور وہ سلامتی جوان میں پائی جائے گی اُس کی نظیر کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی اور قادیان میں طاعون کی خوفناک آفت جو تباہ کر دے نہیں آئے گی الا کم اور شاذ و نادر۔ کاش اگر یہ لوگ دلوں کے سیدھے ہوتے اور خدا سے ڈرتے تو بالکل بچائے جاتے کیونکہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے دنیا میں عذاب کسی پر نازل نہیں ہوتا اُس کا مواخذہ قیامت کو ہوگا۔ دنیا میں محض شرارتوں اور شوخیوں اور کثرتِ گناہوں کی وجہ سے عذاب آتا ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ قرآن شریف میں بلکہ (0) توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگویاں ٹل جائیں اور نیز یہ بھی یادر ہے کہ ہمیں اس الہی وعدہ کے مقابل اس لئے انسانی تدبیروں سے پر ہیز کرنا لازم ہے تانشان الہی کو کوئی دشمن دوسری طرف منسوب نہ کرے لیکن اگر ساتھ اس کے خدا تعالی اپنی کلام کے ذریعہ سے خود کوئی تدبیر سمجھا دے یا کوئی دوا بتلا دے تو ایسی تدبیر یا دوا اس نشان میں کچھ حارج نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس خدا کی طرف سے ہے جس کی طرف سے وہ نشان ہے۔ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بذریعہ طاعون کوئی فوت ہو جائے تو نشان کے قد رو مرتبہ میں کوئی خلل آئے گا کیونکہ پہلے زمانوں میں موسیٰ اور یشوع اور آخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا تھا کہ جن لوگوں نے تلوار اُٹھائی اور صدہا انسانوں کے خون کئے ان کو تلوار سے ہی قتل کیا جائے اور یہ نبیوں کی طرف سے ایک نشان تھا جس کے بعد فتح عظیم ہوئی۔ حالانکہ بمقابل مجرمین کے اہل حق بھی ان کی تلوار سے قتل ہوتے تھے مگر بہت کم اور اس قدر نقصان سے نشان میں کچھ فرق نہیں آتا تھا پس ایسا ہی اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بعض کو بہا عث اسباب مذکورہ طاعون ہو جائے تو ایسی طاعون نشان الہی میں کچھ بھی حرج انداز نہیں ہوگی۔ کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے بلکہ بطور مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے ۔ ذکر یا ہے ، انجیل متی ہے ، مکاشفات ۔