کشتیءنوح — Page 94
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۴ تحفة الند اور فلاح نہیں پائے گا اور انسانی عقل بھی یہی قبول کرتی ہے کہ کذاب جو خدا کے سلسلہ کو عمد انتباہ کرنا چاہتا ہے ہلاک ہونا چاہیے ۔ یہی بیان جا بجا خدا کی پہلی کتابوں میں بھی ہے مگر حافظ صاحب کا مقولہ ہے کہ بہتوں نے جھوٹی وحی اور جھوٹی نبوت کے دعوے کئے اور ان دعووں کا سلسلہ میں تمہیں برس تک جاری رکھا اور اپنی نبوتوں پر اصراری رہے اور اپنا سلسلہ جھوٹی وحی پیش کرنے کا اخیر دم تک نہ چھوڑا یہاں تک کہ اسی کفر پر مر گئے اور خدا نے اُن کی عمر اور کام میں برکت دی اور کوئی عذاب نہ کیا اور نہ ثابت ہو سکا کہ کبھی اُنہوں نے توبہ کی اور کبھی اُن کی توبہ ملک میں شائع ہو کر لوگوں کو اُن کے دوبارہ مسلمان ہونے کی خبر ہوئی اور حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ ان باتوں کا ثبوت رسالہ قطع الوتین میں بخوبی لکھا گیا ہے اور حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ میں انعام کا پانسو روپیہ لینا نہیں چاہتا اس کے عوض یہ چاہتا ہوں کہ ندوۃ العلماء کے سالانہ جلسہ میں جو ابتداء ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۲ء سے بمقام امرتسر منعقد ہوگا جس میں ہندوستان کے مشاہیر علماء شریک ہوں گے مرزا صاحب یعنی یہ عاجز یہ اقرار لکھ دیں کہ جو نظائر پیش کی گئی ہیں (۳) (یعنی رساله قطع الوتین میں ) اگر مقرر کردہ حکم کے نزدیک یعنی ندوہ کے علماء کے نزدیک محک امتحان پر پوری اتریں یعنی ندوہ نے قبول کر لیا ہو کہ جس عمر کو ابتد اوحی سے میں نے پایا ہے اور جس انکشاف سے اور پورے زور اور یقین سے خدا کی وحی پر میرا دعویٰ ہے اور میں نے جس طرح ہزار با کلمات خدا تعالیٰ کی وحی کے اپنی نسبت لکھتے ہیں اور دنیا میں مشہور کئے ہیں ایسا ہی ان لوگوں نے مشہور کئے تھے اور خدا پر افترا کیا تھا پھر وہ ہلاک نہ ہوئے بلکہ میرے جیسی اُن کی بھی جماعت ہو گئی تو ایسی صورت میں مجھے اس مجلس میں تو بہ کرنی چاہیے۔ میں قبول کرتا ہوں کہ ندوہ کے علماء اگر ان کو خدا نے بصیرت دی ہے اور تقویٰ اور انصاف بھی ہے اور پورے غور کرنے کے لئے وقت بھی ہے تو ضرور وہ میرے بیان اور حافظ صاحب کی قطع الوتین کو دیکھ کر سچا فتوی دے سکتے ہیں مگر میں ندوہ کے پاس امرتسر میں آنہیں سکتا کیونکہ میرا ان لوگوں پر حسن ظن نہیں ہے۔ کچی بات یہ ہے کہ میں نہ تو ان لوگوں کو متقی سمجھتا ہوں ( آئندہ اگر خدا کسی کو متقی کر دے تو اُس کا فضل ہے ) اور نہ عارف حقائق قرآن