کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 550

کشف الغطاء — Page 236

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۶ اتمام الصلح خدا ہے کہ ہماری حیات اور زندگی اُسی کے ہاتھ میں ہے اور اُسی کے حکم سے ہمارے وجود کے ذرات ملتے اور علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں تو پھر اُس کے مقابل پر یہ کہنا کہ بغیر اس کی امداد اور فضل کے ہم محض اپنی تدبیروں پر بھروسہ کر کے جی سکتے ہیں کس قدر فاش غلطی ہے۔ نہیں بلکہ ہماری تدبیریں بھی اُسی کی طرف سے آتی ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں تبھی روشنی پیدا ہوتی ہے جب وہ بخشتا ہے۔ پانی اور ہوا پر بھی ہمارا تصرف نہیں۔ بہت سے اسباب ہیں جو ہمارے اختیار سے باہر اور صرف قبضہ قدرت خدائے تعالیٰ میں ہیں جو ہماری صحت یا عدم صحت پر بڑا اثر ڈالنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جل شانۂ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَ تَصْرِيفِ الرِّيحِ وَالسَّحَابِ المُسرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ا یعنی ہواؤں اور بادلوں کو پھیرنا یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے اور اس میں عقل مندوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے اختیار کامل کا پتہ لگتا ہے۔ اور یہ پھیر ناد قسم پر ہے ایک ظاہری طور پر اور وہ یہ ہے کہ ہواؤں اور بادلوں کو ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف اور ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف پھیرا جائے۔ دوسری قسم پھیر نے کی باطنی طور پر ہے۔ اور وہ یہ کہ ہواؤں اور بادلوں میں ایک کیفیت تریاقی یاسمی پیدا کر دی جائے تا موجب امن و آسائش خلق ہوں یا امراض وبائیہ کا موجب ٹھہریں۔ سوان دونوں قسموں کے پھیر نے میں انسان کا دخل نہیں اور بنگلی انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اور با ایں ہمہ ایک یہ مشکل بھی پیش ہے کہ ہماری صحت یا عدم صحت کا مدار صرف ان ہی دو چیزوں پر نہیں بلکہ ہزار در ہزار اسباب ارضی و سماوی اور بھی ہیں جو دقیق در دقیق اور انسان کی فکر اور نظر سے مخفی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تمام اسباب اُس کی جد و جہد سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو اس خدا کی طرف رجوع کرنے کی حاجت ہے جس کے ہاتھ میں یہ تمام اسباب اور اسباب در اسباب ہیں۔ اور جس طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں میں نیک انسان اور بد انسان میں فرق کیا گیا ہے اور اُن کے جُدا جدا مقام ٹھہرائے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ان دو انسانوں میں بھی فرق ہے جن میں سے ایک خدا تعالیٰ کو چشمہ فیض البقرة : ۱۶۵