کشف الغطاء — Page 229
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۹ بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصْلِي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيم پندے ست گوش گن که ربي از عذاب و درد فرخنده گس که پند خردمند گوش کرد ايام الصلح ہمارے پہلے اشتہار مورخہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء طاعون کے متعلق ایک اور ضروری بیان مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض صاحبوں کے دلوں میں میرے اوّل اشتہار کے پڑھنے سے یہ ایک اعتراض پیدا ہوا ہے کہ لوگوں کو اول یہ بتانا کہ اس مرض کے استیصال کے لئے فلاں تدبیریا دوا ہے اور پھر یہ کہنا کہ شامت اعمال سے یہ مرض پھیلتی ہے ان دونوں باتوں میں تناقض ہے۔ اور تعجب کہ اس اعتراض کے کرنے والے بعض مسلمان ہی ہیں۔ سو ایسے سب صاحبوں کو واضح رہے کہ قانونِ قدرت اور صحیفہ فطرت پر نظر ڈالنے سے ان تمام اوہام کا بڑی صفائی سے جواب ملتا ہے۔ خدا کا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے ہمیں بتلا رہا ہے کہ سلسلہ تدابیر اور معالجات کا طلب اور استدعا سے وابستہ ہے یعنی جب ہم فکر کے ذریعہ سے یا کسی اور طریق جستجو کے ذریعہ سے کسی تدبیر اور علاج کو طلب کرتے ہیں یا اگر ہم طلب کرنے میں احسن طریق کا ملکہ ند ر کھتے ہوں یا اگر اس میں کامل نہ ہوں تو مثلاً اس غور اور فکر کے لئے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ ہمارے لئے اپنی فکر اور غور کے وسیلہ سے کوئی احسن طریق ہماری شفا کا سوچتا ہے تب اس کو قانونِ قدرت کی حد کے اندر کوئی طریق سوجھ جاتا ہے جو کسی درجہ تک ہمارے لئے مفید ہوتا ہے سو وہ طریق جو ذہن میں آتا ہے وہ در حقیقت اس خوض اور غور اور فکر اور توجہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔