کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 550

کشف الغطاء — Page 197

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۷ کشف الغطاء اور در پر دو وہ سب کا رروائی خود محمد حسین نے کی اور اس اپنی کا رروائی سے وہ لوگوں کو اطلاع بھی دیتا رہا ہے اور اپنے رسالوں میں بھی شیخی کے طور پر یہ کام اپنی طرف منسوب کرتا رہا ہے اور یہ تمام اشتہارات جو نہایت چالا کی اور بد زبانی سے ایک سال سے یا کچھ زیادہ عرصہ سے محمد حسین شائع کر رہا ہے یہ نہایت اوباشانہ طریق سے گندے سے گندے پیرا یہ میں لکھے جاتے ہیں اوران اشتہاروں میں کوئی پہلو میری بے عزتی اور بے آبروئی کا اٹھا نہیں رکھا اور میرے تمام ننگ و ناموس کو خاک میں ملانا چاہا ہے اور ایسی گندی اور ناپاک تہمتوں پر مشتمل ہیں کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ اس سختی اور بے شرمی کا برتاؤ کبھی ذلیل سے ذلیل قوم کے آدمی نے کسی اپنے مخالف کے ساتھ کیا ہو ۔ ان اشتہارات میں سے جو ۱۲ راگست ۱۸۹۸ء کا اشتہار ہے جو مطبع تاج الہند میں چھپا ہے ایسا ہی ایک دوسرا اشتہار جو ۲۵ ستمبر ۱۸۹۸ء میں مطبع فخر الدین پریس لاہور میں طبع ہوا ہے اور ایسا ہی ایک تیسرا اشتہار اور ضمیمہ ا ارجون ۱۸۹۷ء کا جو اسی مطبع میں طبع ہوا ہے ان چاروں کا نمونہ کے طور پر کسی قدر مضمون اس جگہ درج کرتا ہوں تا حکام کو معلوم ہو کہ کہاں تک میری ذلت کا ارادہ کیا گیا ہے اور نہ ایک ماہ نہ دو ماہ بلکہ ایک سال سے ایسے گندے اشتہار جاری کر رہے ہیں جن کے متواتر زخموں کے بعد مجھے اشتہار۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء لکھنا پڑا۔ جس میں جھوٹے کی ذلت خدا تعالیٰ سے طلب کی ہے اور محمد حسین کے یہ چاروں اشتہار جو جعفر زٹلی کے نام پر نکالے گئے مجھے بے عزت کرنے کے لئے ان میں نہایت سخت اور گندے اور ناپاک الفاظ استعمال کئے ہیں۔ یعنی میری نسبت یہ لکھا ہے کہ اس 17 شخص کی جورو کی اس کے بعض مریدوں سے آشنائی ہے اور پھر ٹھٹھے سے اپنے تئیں ملہم قرار دے کر میری نسبت لکھا ہے کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ "اس شخص کی جو رو محمد بخش جعفر زٹلی سے یہ اشتہار مباہلہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء اس وقت تک شائع نہیں کیا جب تک کہ کئی اشتہار بدرخواست مباہلہ ان لوگوں کی طرف سے متواتر میرے پاس نہیں پہنچے ۔ چنانچہ علاوہ ان اشتہارات کے ایک چٹھی جعفر زٹلی مورخہ ۱۹ نومبر ۱۸۹۸ء اور پانچ اشتہارات متواتر یکے بعد دیگرے مباہلہ کی درخواست کے متعلق محمد حسین نے آپ شائع کرائے ہیں۔ منہ