کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 550

کشف الغطاء — Page 179

روحانی خزائن جلد ۱۴ 129 كشف الغطاء میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں اے کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں ۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضی قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدر آباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہذا میں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کر لیں۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ نیا فرقہ ان ملکوں میں دن بدن ترقی پر ہے یہاں تک کہ بہت سے دیسی افسر اور معزز رئیس اور جاگیر دار اور نامی تاجر اس فرقہ میں داخل ہو گئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اس لئے عام خیال کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کو اس فرقہ سے دلی عناد اور حسد ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس حسد کی وجہ سے خلاف واقعہ امور گورنمنٹ تک پہنچائے جائیں سو اسی لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ سے اپنے بچے واقعات اور اپنے مشن کے اصولوں سے اس محسن گورنمنٹ کو مطلع کروں۔ اب میں صفائی بیان کے لئے ان امور کے ذکر کو پانچ شاخ پر منقسم کرتا ہوں اول یہ کہ میں کون ہوں اور کس خاندان سے ہوں؟ سو اس بارے میں اس قدر ظاہر کرنا کافی ہے کہ میرا خاندان ایک خاندان ریاست ہے اور میرے بزرگ والیان ملک اور (۲) خودسر امیر تھے جو سکھوں کے وقت میں یکدفعہ تباہ ہوئے ۔اور سرکار انگریزی کا