کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 550

کشف الغطاء — Page 172

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۷۲ راز حقیقت خاتمہ کتاب خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے مخالفوں کو ذلیل کرنے کے لئے اور اس راقم کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ جوسرینگر میں محلہ خان یار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے، وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔ مرہم عیسی جس پر طلب کی ہزار کتاب بلکہ اس سے زیادہ گواہی دے رہی ہے اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام نے صلیب سے نجات پائی تھی وہ ہر گز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ اس مرہم کی تفصیل میں کھلی کھلی عبارتوں میں طبیبوں نے لکھا ہے کہ یہ مرہم ضر بہ سقطہ اور ہر قسم کے زخم کے لئے بنائی جاتی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار ہوئی تھی یعنی اُن زخموں کے لئے جو آپ کے ہاتھوں اور پیروں پر تھے ۔ اس مرہم کے ثبوت میں میرے پاس بعض وہ طبی کتابیں بھی ہیں جو قریباً سات سو برس کی قلمی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ طبیب صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ عیسائی، یہودی اور مجوسی بھی ہیں جن کی کتابیں اب تک موجود ہیں۔ قیصر روم کے کتب خانہ میں بھی رومی زبان میں ایک قرابا دین تھی اور واقعہ صلیب سے دوسو برس گذرنے سے پہلے ہی اکثر کتابیں دنیا میں شائع ہو چکی تھیں ۔ پس بنیاد اس مسئلہ کی کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اول خود انجیلوں سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور پھر مر ہم عیسی نے علمی تحقیقات کے رنگ میں اس ثبوت کو کھلایا۔ پھر بعد اس کے وہ انجیل جو حال میں تبت سے دستیاب ہوئی اُس نے صاف گواہی دی کہ حضرت عیسی ضرور ہندوستان کے ملک میں آئے ہیں۔ اس کے بعد اور بہت سی کتابوں سے اس واقعہ کا پتہ لگا۔ اور تاریخ کشمیر اعظمی جو قریبا دو سو برس کی تصنیف ہے، اس کے صفحہ ۸۲ میں لکھا ہے کہ سید نصیر الدین کے مزار کے پاس جو دوسری قبر ہے عام خیال ہے کہ یہ ایک پیغمبر کی قبر ہے۔ اور پھر یہی مؤرخ اسی صفحہ میں لکھتا ہے کہ ایک شہزادہ کشمیر میں کسی اور ملک سے آیا تھا اور زہد و تقویٰ اور ریاضت اور عبادت میں وہ کامل درجہ پر تھا وہی خدا کی طرف سے نبی ہوا اور کشمیر میں آ کر کشمیریوں کی دعوت میں مشغول ہوا جس کا نام یوز آسف ہے اور اکثر صاحب کشف خصوصاً ملا عنایت اللہ جو راقم کا مرشد ہے۔ فرما گئے ہیں کہ اس قبر سے برکات نبوت ظاہر ہورہے ہیں۔ یہ عبارت تاریخ اعظمی کی فارسی میں ہے جس کا ترجمہ کیا گیا۔ اورمحمڈن اینگلو اور ٹیل کا لج میگزین ستمبر ۱۸۹۶ء اور اکتوبر ۱۸۹۶ء میں یہ تقریب ریویو کتاب شہزادہ یوز آسف جو مرزا صفدر علی صاحب، سرجن فوج سر کار نظام نے لکھی ہے تحریر کیا ہے کہ یوز آسف کے مشہور قصہ میں جو ایشیا اور یورپ میں شہرہ آفاق ہو چکا ہے، پادریوں نے کچھ رنگ آمیزی کر دی ہے، یعنی یوز آسف کے سوانح میں جو حضرت مسیح کی تعلیم اور اخلاق سے بہت مشابہ ہے شاید یہ تحریریں پادریوں نے اپنی طرف سے زیادہ کر دی ہیں۔ لیکن یہ خیال سراسر سادہ لوحی کی بنا پر ہے بلکہ پادریوں کو اُسوقت یوز آسف کے سوانح ملے ہیں جبکہ اس سے پہلے تمام ہندوستان اور کشمیر میں مشہور ہو چکے تھے اور اس ملک کی پُرانی کتابوں میں اُن کا ذکر ہے اور اب تک وہ کتابیں موجود ہیں پھر پادریوں کو تحریف کے لئے کیا گنجائش تھی ۔ ہاں پادریوں کا یہ خیال کہ شاید حضرت مسیح کے حواری اس ملک میں آئے ہوں گے اور یہ تحریر میں یوز آسف کے سوانح میں اُن کی ہیں یہ سراسر غلط خیال ہے بلکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یوز آسف حضرت یسوع کا نام ہے جس میں زبان کے پھیر کی وجہ سے کسی قدر تغیر ہو گیا ہے۔ اب بھی بعض کشمیری بجائے یوز آسف کے عیسی صاحب ہی کہتے ہیں۔ جیسا کہ لکھا گیا۔ والسلام على من اتبع الهدى