کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 417

کرامات الصادقین — Page 57

روحانی خزائن جلدے ۵۷ كرامات الصادقين اور میری رضامندی اسمیں محدود ہوگئی کہ تم دین اسلام پر قائم ہو جاؤ۔ خدا نے نہایت کامل اور (۱۵ پسندیدہ کلام تمہاری طرف اُتارا۔ اس کتاب میں یہ خاصیت ہے کہ یہ کتاب متشابہ ہے یعنی اس کی تعلیمات نہ باہم اختلاف رکھتی ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت سے منافی ہیں بلکہ جو کمال انسان کے لئے اسکی فطرت اور اُس کے قومی کے لحاظ سے ضروری ہے اسی کمال کے مناسب حال اس کتاب کی تعلیم ہے اور یہ صفت تو ریت اور انجیل کی تعلیم میں نہیں پائی جاتی۔ توریت میں حد سے زیادہ بختی اور انتقام پر زور ڈالا گیا ہے اور وہ تختی مطیع اور نا فرمان اور دوست اور دشمن دونوں کے حق میں ایسے طور سے تجویز کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توریت کی تعلیم کو خاص قوم اور خاص زمانہ کے لحاظ سے یہ مجبوری پیش آگئی تھی کہ سید ھے اور عام قانون قدرت کے موافق توریت کے احکام اُن قوموں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اسی لحاظ سے توریت نے اندرونی طور پر یعنی اپنی قوم کے ساتھ یہ تختی کی کہ انتقامی احکام پر زور ڈال دیا اور عفو اور در گذر گویا یہودیوں کے لئے حرام کی طرح ہو گئے اور دانت کے عوض اپنے بھائی کا دانت نکال ڈالنا داخل ثواب سمجھا گیا اور حقوق اللہ میں بھی بہت سخت اور گویا فوق الطاقت تکلیفیں جن سے معیشت اور تمدن میں حرج ہو رکھی گئیں۔ ایسا ہی بیرونی احکام توریت کے بھی زیادہ سخت تھے جن کی رو سے مخالفوں اور نافرمانوں کے دیہات اور شہر پھونکے گئے اور کئی لاکھ بچے قتل کئے گئے اور بڑھوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور ضعیف عورتوں کو بھی تہ تیغ کیا گیا۔ اور انجیل کی تعلیم میں حد سے زیادہ نرمی اور رحم اور درگذر فرض کی طرح ٹھہرائے گئے ۔ چنانچہ بیرونی طور پر اگر دشمن دین حملہ کریں تو انجیل کی رو سے مقابلہ کرنا حرام ہے گودہ اُن کے روبرواُن کے قوم کے غریبوں اور ضعیفوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور اُن کے بیجوں کو قتل کر ڈالیں اور اُن کی عورتوں کو پکڑ کر لے جائیں اور ہر طرح سے بے حرمتی کریں اور اُن کے معابد کو پھونک دیں اور اُن کی کتابوں کو جلا دیں غرض کیسے ہی اُن کی قوم کو تہ و بالا کر دیں مگر دشمن مذہب کے