کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 417

کرامات الصادقین — Page 50

روحانی خزائن جلدے كرامات الصادقين کرنے کے بارہ میں سوچتے چلے جائیں تب بھی ان کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ جس قدران میں خواص تھے انہوں نے معلوم کر لیے ہیں ۔ لیکن قرآن کریم کی عبارتیں صرف سطحی خیالات تک محدود ہیں جو ایک جاہل ملا اُن پر سرسری نظر ڈال کر دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو کچھ قرآن میں تھا میں نے معلوم کر لیا ۔ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا اور اسکی مخلوقات میں سے ایک پتہ بھی ایسا نہیں جس کو چند معلومہ خواص میں محدود کہہ سکیں بلکہ اس کی ہر ایک مخلوق خواص غیر محدودہ اپنے اندر رکھتی ہے اور اسی وجہ سے ہر یک مخلوق میں صفت بے نظیری پائی جاتی ہے اور اگر تمام دنیا اُس کی نظیر بنانا چاہے تو ہرگز اُن کے لیے میسر نہ ہو جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ فرما دیا ہے کہ کبھی بنانے پر بھی کوئی قادر نہیں ہوسکتا۔ کیوں قادر نہیں ہو سکتا اس کی یہی تو وجہ ہے کہ مکھی میں بھی اس قدر عجائبات صنعت صانع ہیں کہ انسانی طاقتوں بلکہ تمام مخلوق کی قوتوں سے بڑھ کر ہیں پھر خدا تعالیٰ کا کلام کیوں ایسا گرا ہوا اور ادنی درجہ کا سمجھا جاوے کہ جو اپنے خواص اور حقائق کے رُو سے لکھی کے درجہ پر نہیں ۔ کیا یہ وہی کلام نہیں جس کے حق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قل لبِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوْا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا یعنی اگر جن وانس اس بات پر اتفاق کر لیں کہ اس قرآن کی نظیر بنا دیں تو ہرگز بنا نہیں سکیں گے اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ بعض نادان ملا اخزاهم الله کہا کرتے ہیں کہ یہ بے نظیری صرف بلاغت کے متعلق ہے لیکن ایسے لوگ سخت جاہل اور دلوں کے اندھے ہیں اس میں کیا کلام ہے کہ قرآن کریم اپنی بلاغت اور فصاحت کے رو سے بھی بے نظیر ہے لیکن قرآن کریم کا یہ منشاء نہیں ہے کہ اُس کی بے نظیری صرف اسی وجہ سے ہے بلکہ اُس پاک کلام کا یہ منشاء ہے کہ جن جن صفات سے وہ متصف کیا گیا ہے اُن تمام بنی اسرائیل: ۸۹