کرامات الصادقین — Page 67
روحانی خزائن جلدے ۶۷ كرامات الصادقين که انی مهین من اراد اهانتک اس لئے یہ کوششیں شیخ جی کی ساری عبث ہوں گی (۲۵ اور اگر کوئی مولوی شوخی اور چالا کی کی راہ سے شیخ صاحب کی حمایت کے لئے اُٹھے گا تو منہ کے بل گرایا جائے گا۔ خدا تعالیٰ ان متکبر مولویوں کا تکبر توڑے گا اور انہیں دکھلائے گا کہ وہ کیونکر غریبوں کی حمایت کرتا ہے اور شریروں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالتا ہے۔ شریر انسان کہتا ہے کہ میں اپنے مکروں اور چالاکیوں سے غالب آجاؤں گا اور میں راستی کو اپنے منصوبوں سے مٹا دوں گا اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت اسے کہتی ہے کہ اے شریر میرے سامنے اور میرے مقابل پر منصوبہ باندھنا تجھے کس نے سکھایا۔ کیا تو وہی نہیں جو ایک ذلیل قطرہ رحم میں تھا۔ کیا تجھے اختیار ہے جو میری باتوں کو ٹال دے۔ بالآخر پھر میں عامہ ناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جلّ شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں لا اله إلا الله مُحَمَّد رسول اللہ میرا عقیدہ ہے۔ اور لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزد یک کمالات ہیں کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں۔ اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اُس کی غلط نہی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتا ہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا وہ یقین یا در کھے کہ مرنے کے بعد اُس کو پوچھا جائے گا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلہ بھاری ہوگا۔ الاحزاب : اے