کرامات الصادقین — Page 65
روحانی خزائن جلدے كرامات الصادقين پیش کریں گے اور نیز ان پچاشی سوالات کا جواب طلب کریں گے جو مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی موت کی نسبت مراسلت نمبر ۲۰ مورخہ 9 جنوری ۱۸۹۳ء میں ہم لکھ چکے ہیں اور یہ بھی سوال کریں گے کہ کیا تم نجوم نہیں جانتے اور کیا تم رمل اور جفر اور مسمریزم سے واقف نہیں ہو۔ اور پھر جوابات کے جواب الجوابات کا جواب پوچھا جائے گا اور اسی طرح سلسلہ وار جواب الجواب ہوتے جائیں گے اور پھر یہ پوچھا جائے گا کہ بالمقابل عربی میں تفسیر لکھنے کو اپنے ملہم اور مؤید ہونے پر دلیل بتلاویں یعنی عربی دانی سے ملہم ہونا کیونکر ثابت ہوگا اور پھر کوئی دلیل اپنے الہامی اور موید من اللہ ہونے کی پیش کریں ۔ پھر جب ان سوالات سے عہدہ برا ہو گئے تو پھر تفسیر عربی اور نیز قصیدہ نعتیہ میں مقابلہ کیا جائے گاور نہ نہیں ۔ اب اے ناظرین اللہ خودان متینوں صفحوں ۱۹۰ ۔ اور ۱۹۱ ۔ اور ۱۹۲ اشاعۃ السنتہ مذکور کو غور سے پڑھو اور دیکھو کہ کیا یہ جواب اور ایسے طرز کی حیلہ سازیاں ایسے شخص کی طرف سے ہوسکتی ہیں جو حقیقت میں اپنے تئیں عربی دان اور ایک فاضل آدمی خیال کرتا ہو اور اپنے فریق مقابل کو ایسا جاہل یقین رکھتا ہو کہ بقول اس کے ایک صیغہ عربی کا بھی اُس کو نہیں آتا ۔ اور پھر خدا تعالیٰ سے بھی مدد نہیں پا سکتا۔ ہماری اس درخواست کی بنا تو صرف یہ بات تھی کہ اس شیخ چالباز نے جابجا جلسوں اور وعظوں اور تحریروں اور تقریروں میں یہ کہنا شروع کیا تھا کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز ایک طرف تو اپنے دعوئی الہام میں مفتری اور دجال اور کاذب ہے اور دوسری طرف اس قدر علوم عربیت اور علم ادب اور علم تفسیر سے جاہل اور بے خبر ہے کہ ایک صیغہ بھی صحیح طور سے اس کے منہ سے نکل نہیں سکتا اور جن آسمانی نشانوں کو دیکھا تھا ان کا تو پہلے انکار کر چکا تھا اور ان کو رمل اور جفر قرار دے چکا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس طور سے بھی اس شخص کو ذلیل اور رسوا کرنا چاہا۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ شخص اہل علم اور اہل ادب میں سے ہوتا تو ان سوا دو نو شرائط اور (۲۴)