جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 502

جنگ مقدّس — Page 306

۳۰۴ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن بکلی غافل تھے بلکہ حق بات جو ایک بدیہی امر کی طرح ہے یہی ہے کہ ائمہ حدیث کا اگر لوگوں پر کچھ احسان ہے تو صرف اس قدر کہ وہ امور جو ابتدا سے تعامل کے سلسلہ میں ایک دنیا اُن کو مانتی تھی اُن کی اسناد کے بارے میں اُن لوگوں نے تحقیق اور تفتیش کی اور یہ دکھلا دیا کہ اُس زمانہ کی موجودہ حالت میں جو کچھ اہل اسلام تسلیم کر رہے ہیں یا عمل میں لا رہے ہیں یہ ایسے امور نہیں جو بطور بدعات اسلام میں اب مخلوط ہو گئے ہیں بلکہ یہ وہی گفتار و کردار ہے جو آنحضرت صلعم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو تعلیم فرمائی تھی۔ افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط فہمی کر کے کو نہ اندیش لوگوں نے کس قدر بڑی غلطی کھائی جس کی وجہ سے آج تک وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اگر چہ یہ تو سچ ہے کہ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی و فعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں یقین کامل کے مرتبہ پر مسلم نہیں ہو سکتا لیکن وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات ابتدا سے اُس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے۔ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبدء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے اس میں تو ایک ذرہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اول درجہ کے یقینات میں سے یقین کرے پھر جبکہ ائمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعالٰی کا اسناد ر است گو اور متدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔ اب اس تمہید کے بعد یہ بھی واضح ہو کہ مسیح موعود کے بارے میں جو احادیث میں پیشگوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو وبس بلکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیشگوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ اور یشہ میں داخل چلی آتی ہے گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اُسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور ائمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیشگوئی کی نسبت