جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 502

جنگ مقدّس — Page 304

روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن حدیث کے مضمون کے لئے ہزار ہزار یا دو دو ہزار طرق اسناد بہم پہنچادیں مگر کیا یہ بھی سچ ہے کہ اس نماز کی بنیاد ڈالنے والے وہی محدث تھے اور پہلے اُس سے دنیا میں نماز نہیں ہوتی تھی اور دنیا نماز سے بالکل بے خبر تھی اور کئی صدیوں کے بعد صرف ایک دو حدیثوں پر اعتبار کرنے سے نماز شروع کی گئی۔ پس میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا دھوکا ہوگا اگر یہ خیال کر لیا جائے گا کہ صرف مدار ثبوت ان رکعات اور کیفیت نماز خوانی کا اُن چند حدیثوں پر تھا جو بنظر ظاہرا حاد سے زیادہ معلوم نہیں ہوتیں اگر یہی سچ ہے تو سب سے پہلے فرائض اسلام کیلئے ایک سخت اور لا علاج ماتم در پیش ہے جس کی فکر ایک مسلمان کہلانے والے ذی غیرت کو سب سے مقدم ہے مگر یا در ہے کہ ایسا خیال فقط ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کبھی بیدار ہو کر سوانح اور واقعات اور رسوم اور عبادات اسلام کی طرف نظر نہیں کی کہ کیونکر اور کس طریق سے یقینی امور کا ان کو مرتبہ حاصل ہوا۔ سو واضح ہو کہ اس یقین کے ہم پہنچانے کیلئے تعامل قومی کا سلسلہ نہات تسلی بخش نمونہ ہے مثلاً وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز فجر کی اس قدر رکعت اور نماز مغرب کی اس قدر رکعات ہیں۔ اگر چه فرض کرو کہ ایسی حدیثیں دو یا تین ہیں اور بہر حال احاد سے زیادہ نہیں مگر کیا اس تحقیق اور تفتیش ے سے پہلے لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور حدیثوں کی تحقیق اور راویوں کا پستہ ملنے کے بعد پھر نمازیں شروع کرائی گئیں تھیں بلکہ کروڑہا انسان اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔ تا ہم اس سلسلہ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وقتا بعد وقت اور قـرنـا بعد قرن یہی چلی آئی ہے۔ ہاں احادیث کی اسناد مرفوعہ متصلہ نے اس سلسلہ کو نور علی نور کر دیا۔ پس اگر اس قاعدہ سے احادیث کو دیکھا جائے تو اُن کے اکثر حصہ کو جس کا معین اور مددگار سلسلہ تعامل ہے احاد کے نام سے یاد کرنا بڑی غلطی ہوگی اور در حقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی دور ڈال دیا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وہ تمام سفن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اور تواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں حالانکہ یہ ان کی فاش غلطی ہے بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دنیا میں نام ونشان بھی