جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 502

جنگ مقدّس — Page 199

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۹۷ جنگ مقدس کہا جاتا ہے کہ کتابیں موجود ہیں کتابوں کو پڑھو لیکن انصاف کرنے کا محل ہے کہ ہر ایک صداقت کو ہر ایک پہلو سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم یہودیوں کے اقوال کو بھی دیکھیں گے۔ آپ کے اندرونی اختلافات پر بھی نظر ڈالیں گے۔ اور اگر آپ کا یہ شوق ہے کہ کتا بیں دیکھی جاویں وہ بھی دیکھی جاویں گی ۔ مگر اس صورت میں کہ یہودیوں کے معنے بھی جو وہ کرتے ہیں سنے جائیں اور آپ کے ۱۰۵ معنے بھی سنے جائیں اور ان کی لغات بھی دیکھی جائیں اور آپ کی لغات بھی دیکھی جائیں پھر جو اولی وانسب ہے اس کو اختیار کیا جائے اور یہودیوں سے مراد وہی یہودی ہیں جو حضرت مسیح سے پہلے صد ہا برس گزر چکے ہیں۔ غرض ہر ایک پہلو کو دیکھنا طالب حق کا منصب ہوتا ہے نہ کہ ایک پہلو کو ۔ اور ماسوا اس کے رحم بلا مبادلہ کا جو سوال کیا جاتا ہے اس کا ایک پہلو تو ابھی میں بیان کر چکا ہوں اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کو دیکھا جائے گا کہ آیا رحم اور قہر کے نفاذ میں اس کی عادات کیونکر ظاہر ہے کہ رحم کے مقابل پر قہر ہے ۔ اگر رحم بلا مبادلہ جائز نہیں تو پھر قہر بلا مبادلہ بھی جائز نہ ہوگا۔ اب ایک نہایت مشکل اعتراض پیش آتا ہے ۔ اگر ڈپٹی صاحب اس کو حل کر دیں گے تو ڈپٹی صاحب کی اس فلاسفی سے حاضرین کو بہت فائدہ ہوگا اور قہر بلا مبادلہ کی صورت یہ ہے کہ ہم اسے دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ہزار ہا کیڑے مکوڑے اور ہزار ہا حیوانات بغیر کسی جرم اور بغیر ثبوت کسی خطا کے قتل کئے جاتے ہیں ہلاک کئے جاتے ہیں ذبح کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک قطرہ پانی میں صدہا کیڑے ہم پی جاتے ہیں اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ہمارے تمام امور معاشرت خدا تعالیٰ کے قہر بلا مبادلہ پر چل رہے ہیں یہاں تک کہ جو ریشم کے کپڑے بھی انسان استعمال کرتا ہے اس میں اندازہ کر لینا چاہیے کہ کس قدر جانیں تلف ہوتی ہیں۔ اور حضرات عیسائی صاحبان جو ہر روز اچھے اچھے جانوروں کا عمدہ گوشت تناول فرماتے ہیں ہمیں کچھ پتا نہیں لگتا کہ یہ کس گناہ کے عوض میں ہو رہا ہے اب جبکہ یہ ثابت شده صداقت ہے کہ اللہ جل شانه بلا مبادلہ قہر کرتا ہے اور اس کا کچھ عوض ملتا ہمیں معلوم نہیں ہوتا تو پھر اس صورت میں بلا مبادلہ رحم کرنا اخلاقی حالت سے انسب اور اولی ہے۔ حضرت مسیح بھی گناہ بخشنے کے لئے وصیت فرماتے ہیں کہ تم اپنے گناہ گار کی خطا بخشو