جنگ مقدّس — Page 174
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۷۲ جنگ مقدس ۸۲ اہل ہنود کی جو کتابیں ہیں ان کا ثبوت بھی قابل اعتبار نہ گنا جائے۔ مرزا صاحب یہ کیا آپ فرماتے ہیں انہوں نے کون سے کار الہی کئے اور ان کا کونسا دعوئی پا یہ ثبوت تک پہنچا ہوا ہے اور ایک اہل کتاب کی جو مجلس ہے اس میں ان کی نظیروں کی ضرورت کیا ہے۔ آیا عقلاً آپ اسیح اور رامچند راور کرشن میں کوئی تمیز نہیں کرتے اور جلالی انجیل کو مقابل اہل ہنود کی کتابوں کے جانتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک نبی اللہ برحق کو اور اہل کتاب کے مسئلوں کو بت پرستوں اور بہت پرستوں کی کتابوں سے تشبیہ دینا ہی گناہ ہے اور اگر آپ ایسی تشبیہ دیویں تو اس کا جواب بھی آپ اللہ تعالی کو دیو ہیں۔ اہل ہنود کی جن کتابوں کا آپ نے ذکر کیا وہ تو تواریخی طور پر بھی درست نہیں ہیں۔ اب ہم کس بات کو مد نظر رکھ کر زیادہ تر امتیاز کریں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ چونکہ بہت شخصوں نے دعوی کیا تھا کہ ہم خدا ہیں اور ان کے یہ دعوے الوہیت کے باطل نکلے۔ لہذا مسیح نے بھی یہ دعوی کیا ہے لہذا وہ بھی باطل ہے۔ جناب من یہ کیا فرماتے ہیں۔ چونکہ دس روپیہ میں نو کھوٹے ہوں آیا دسواں بھی ضرور کھوٹا ہوگا ؟ اس طرح کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا موقعہ دیکھ کر اور خصوصیتیں جو ہیں سمجھ کر فتویٰ دینا چاہیے۔ چونکہ جھوٹے دعوے ہیں آپ پر روشن ہوگا کہ سچا بھی کوئی ہوگا اگر بچے روپے نہ ہوتے تو نفلی بھی نہ ہوتے۔ سوم۔ ہم نے کئی پیشین گوئیاں مرزا صاحب کی خدمت میں عرض کر دی ہیں اور ان پر آپ کا یہ اعتراض ہے کہ آپ دعوے کے ثبوت میں دعوے ہی پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ پیشین گوئیاں جس کا حوالہ دیتے ہو خود دعوے ہیں اور دعوے کا دعویٰ سے کیونکر ثبوت ہو سکتا ہے۔ جناب من یہ آپ کی عجب غلط نہی ہے۔ پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کی کسی صورت میں دعوی نہیں گئی جاسکتیں بلکہ صداقتیں ہیں اور ہم ان کو دعوے کے طور نہیں تسلیم کرتے لیکن اپنے مالک کے فرمان کے طور قبول کرتے ہیں۔ کسی فرد بشر کی جرات ہے کہ اپنے پیدا کنندہ اور پرورش کرنے والے کے فرمان کو دعوے کہے اور ان کو پرکھنا بھی ہماراحق نہیں کیونکہ اگر ایک پیشگوئی ہے تو وہ علاقہ رکھتی ہے زمانہ استقبال سے نہ کہ زمانہ حال سے اب جس منزل تک ہم پہنچتے ہی نہیں ہیں وہاں کی باتوں کا ہم فیصلہ ہی کیا کریں۔ ہماراحق ہے کہ نبی کو پرکھیں اورتسلی اپنی کرالیں کہ یہ بالضرور ہی اللہ ہے