جنگ مقدّس — Page 159
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۵۷ جنگ مقدس کے وسیلہ سے مل سکتی ہے تو انھیں اختیار ہے کہ وہ میرے مقابل پر نجات حقیقی کی آسمانی نشانیاں اپنے مسیح سے مانگ کر پیش کریں مگر اب بالخصوص رعایت شرائط بحث کے لحاظ سے میرے مخاطب اس بارہ میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب ہیں ۔ صاحب موصوف کو (۶۸) چاہیے کہ انجیل شریف کی علامات قرار دادہ کے موافق سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں اپنے وجود میں ثابت کریں اور اس طرف میرے پر لازم ہوگا کہ میں سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں قرآن کریم کے رو سے اپنے وجود میں ثابت کروں مگر اس جگہ یادر ہے کہ قرآن کریم ہمیں اقتدار نہیں بخشا بلکہ ایسے کلمہ سے ہمارے بدن پر لرزہ آتا ہے ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا نشان دکھلائے گا وہی خدا ہے سوا اُسکے اور کوئی خدا نہیں ہاں یہ ہماری طرف سے اس بات کا عہد پختہ ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے میرے پر ظاہر کر دیا ہے که ضرور مقابلہ کے وقت میں فتح پاؤں گا مگر یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور سے نشان دکھلائے گا۔ اصل مدعا تو یہ ہے کہ نشان ایسا ہو کہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو یہ کیا ضرور ہے کہ ایک بندہ کو خدا ٹھہرا کر اقتدار کے طور پر اُس سے نشان مانگا جائے ہمارا یہ مذہب نہیں اور نہ ہمارا یہ عقیدہ ہے اللہ جل شانہ ہمیں صرف عموم اور کھلی طور پر نشان دکھلانے کا وعدہ دیتا ہے اگر اس میں میں جھوٹا نکلوں تو جو سزا آپ تجویز کریں خواہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو مجھے منظور ہے لیکن اگر آپ حد اعتدال و انصاف کو چھوڑ کر مجھ سے ایسے نشان چاہیں گے جس طرز سے حضور مسیح بھی دکھلا نہیں سکے بلکہ سوال کرنے والوں کو ایک دو گالیاں سنا دیں تو ایسے نشان دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نز دیک کفر ہے۔ دستخط دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان