جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 502

جنگ مقدّس — Page 102

روحانی خزائن جلد ۶ جنگ مقدس کس کو انکار ہے کہ حضرت آدم بغیر باپ اور ماں کے پیدا ہوئے تھے اور ان کی نسبت سنت اللہ اسی طرح پر ثابت ہو چکی ہے۔ لیکن امر متنازعہ فیہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو فریقین کے نزدیک مسلم اور ثابت شدہ قرار پائی ہو بلکہ فریق مخالف حضرات عیسائیوں کے جو کتاب ہے یعنی قرآن کریم وہ آپ سے یہ بات پیش کرتا ہے کہ دلیل استقرائی سے یہ امر باطل ہے۔ اب اگر یہ دلیل تام اور کامل نہیں ہے تو چاہیے کہ انجیل میں سے یعنی حضرت مسیح کے کلام میں سے اس کے مخالف کوئی دلیل پیش کی جائے جس سے ثابت ہو کہ یہ دلیل پیش کردہ قرآن کی یہ ضعف رکھتی ہے اور خود ظاہر ہے کہ اگر دلائل استقرائیہ کو بغیر پیش کرنے نظیر مخالف کے یونہی رد کر دیا جائے تو تمام علوم و فنون ضائع ہو جائیں گے اور طریق تحقیق بند ہو جائے گا مثلاً میں مسٹر عبد اللہ آ نتم صاحب سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر آپ کسی اپنے ملازم کو ایک ہزار روپیہ بطور امانت کے رکھنے کو دیں اور وہ روپیہ صندوق میں بند ہو اور تالی اس کی اس ملازم کے پاس ہو اور کوئی صورت اور کوئی شبہ چوری (ہو ) جانے مال کا نہ ہو اور وہ آپ کے پاس یہ عذر پیش کرے کہ حضرت وہ روپیہ پانی ہو کر بہہ گیا ہے یا ہوا ہو کر نکل گیا ہے تو کیا آپ یہ اس کا عذر قبول کرلیں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی امر صفات الہیہ کے مخالف نہ پڑے تب تک ہم اس کو جائز اور ممکن کی ہی مد میں رکھیں گے مگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ ایک مدت تک عہدہ اکسٹرا اسسٹنٹی پر مامور رہ کر مقدمات دیوانی و فوجداری و غیره کرتے رہے ہیں ۔ کیا اس عجیب طرز کا بھی کوئی مقدمہ آپ نے کیا ہے کہ ایسے بے ہودہ عذر کو قابل اطمینان عدالت قرار دے کر فریق عذر کنندہ کے حق میں ڈگری کر دی ہو۔ حضرات آپ پھر ذرا توجہ سے غور کریں کہ یہ بات ہرگز درست نہیں ہے کہ جو شخص دلائل است استقرائیہ کے برخلاف کوئی امر جدید اور خلاف دلائل استقراء پیش کرے تو اس امر کو بدوں اس کے کہ وہ نظائر سے ثابت کر دیا جائے قبول کر لیں اور یہ نظیر جو آپ نے پیش کی ہے کہ اس صورت میں ہم کو صفت خالقہ کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ میں حیران ہوں کہ یہ دلیل کیوں پیش کی ہے اور اس محل سے اس دلیل کو تعلق ہی کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کا اس