جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 502

جنگ مقدّس — Page 87

روحانی خزائن جلد ۶ ۸۵ تقریر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بسم الله الرحمن الرحيم ا جنگ مقدس الحَمدُ للهِ رَبِّ العلمين والصلوة والسلام على رسوله مُحمدٍ وآله وأصحابه اجمعين اما بعد واضح ہو کہ آج کا روز جو ۲۲ مئی ۱۸۹۳ ء ہے اس مباحثہ اور مناظرہ کا دن ہے جو مجھے میں اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب میں قرار پایا ہے۔ اور اس مباحثہ سے مدعا اور غرض یہ ہے کہ حق کے طالبوں پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اسلام اور عیسائی مذہب میں سے کونسا مذ ہب سچا اور زندہ اور کامل اور منجانب اللہ ہے اور نیز حقیقی نجات کس مذہب کے ذریعہ سے مل سکتی ہے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے بطور کلام کلی کے اسی امر میں جو مناظرہ کی علت غائی ہے انجیل شریف اور قرآن کریم کا مقابلہ اور موازنہ کیا جاوے لیکن یہ بات یادر ہے کہ اس مقابلہ اور موازنہ میں کسی فریق کا ہرگز یہ اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی کتاب سے باہر جاوے یا اپنی طرف سے کوئی بات منہ پر لاوے بلکہ لازم اور ضروری ہوگا کہ جو دعویٰ کریں وہ دعوی اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جاوے جو الہامی قرار دی گئی ہے اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو کیونکہ یہ بات بالکل سچی اور کامل کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی وکالت اپنے تمام ساختہ پر داختہ سے کوئی دوسرا شخص کرے اور وہ کتاب بکلی خاموش اور ساکت ہو۔ اب واضح ہو کہ قرآن کریم نے اسلام کی نسبت جس کو وہ پیش کرتا ہے یہ فرمایا ہے ان الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (۱۰/۳) وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ ) ( سیپاره ۳ رکوع ۱۷) ترجمه یعنی دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہرگز قبول نہیں کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔ ال عمران :۲۰ ال عمران : ۸۶