ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 576 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 576

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۶ ازالہ اوہام حصہ دوم رویت صحیح تھی ۔ اور ان سب کا سکوت بطور شواہد مل کر اس امر کو اور بھی قوت دیتا ہے کہ در حقیقت وہ حدیث صاحب تلویح نے بخاری میں دیکھی تھی۔ اور جس حالت میں صاحب بخاری تین لاکھ حدیثیں یاد رکھتے تھے اس صورت میں کیا قرین قیاس نہیں کہ بعض حدیثوں کے لکھنے میں نسخوں میں کمی بیشی ہو۔ اور اس طلاق کے مقابل پر میرا اشتہار لکھنا محض فضول تھا۔ اس سے ۸۷۳) اگر کچھ ثابت ہو تو فقط یہ ثابت ہوگا کہ بے وجہ نکتہ چینیاں آپ کی عادت ہے۔ حضرت ! آپ جانتے ہیں کہ یوں تو ہر ایک شخص کو اختیار ہے کہ اپنی بیوی کو نا فرمان یا سرکش یا بد زبان یا بکلی کو ناہموار اور نا موافق پا کر اس کو طلاق دے دیوے۔ اس طرح تو پیغمبر بھی دیتے رہے ہیں لیکن ایک شخص بحث اور جھگڑا تو لوگوں سے کرے اور ناحق اپنی بے خبر اور بے گناہ بیویوں کو غصہ میں آکر طلاق دیوے یہ امر وحشیانہ اور سراسر خلاف تہذیب ہے۔ کیا مناسب ہے کہ گناہ کسی کا ہو اور مارا جائے کوئی ۔ کیا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا کوئی نمونہ پایا جاتا ہے۔ آپ کا یہ بھی جھوٹ ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام ابو حنیفہ کی تحقیر نہیں کی۔ اگر آپ کو ایک بات میں نادان کہا جائے تو آپ کو کیسا غصہ آتا ہے مگر آپ نے تو امام صاحب کو حدیث رسول اللہ سے قریب قریب محروم مطلق کے ظاہر کیا۔ کیا یہ تحقیر نہیں ؟ ہمارے اور آپ کے حنفی علماء منصف رہے۔ پھر آپ اپنے اشتہار میں میرے اس قول کو ا کا ذیب میں داخل قرار دیتے ہیں کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر صحابہ کا اجماع تھا خدائے تعالیٰ آپ کے حال ۸۷۳) پر رحم کرے۔ کیا خودا بن صیاد کے بیان سے جو بعد مشرف باسلام ہونے کے اس نے کیا تھا جو صحیح مسلم میں موجود ہے ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس کو دجال معہود کہتے تھے ۔ کیا اس حدیث میں کوئی صحابی باہر بھی رکھا ہے جو اس کو دجال معہود نہیں سمجھتا تھا یا کیا اس خبر کے مشہور ہونے کے بعد کسی صحابی کا انکار مروی ہے۔ اس کا ذرہ نام تو لو ۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر حضرت عمر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں قسم کھائی