ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 517

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۷ ازالہ اوہام حصہ دوم تعلیم اسلام پھیلانے کے لئے کیا کرنا چاہیے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ بعض انگریزی خوان مسلمانوں میں سے یورپ اور امریکہ میں جائیں اور وعظ اور منادی کے ذریعہ سے مقاصد اسلام اُن لوگوں پر ظاہر کریں لیکن میں عموماً اس کا جواب ہاں کے ساتھ کبھی نہیں دوں گا۔ میں ہرگز مناسب نہیں جانتا کہ ایسے لوگ جو اسلامی تعلیم سے پورے طور پر واقف نہیں اور اس کی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں سے بکلی بے خبر اور نیز زمانہ حال کی نکتہ چینیوں کے جوابات پر کامل طور پر حاوی نہیں ہیں اور نہ روح القدس سے تعلیم پانے والے ہیں وہ ہماری طرف سے وکیل ہو کر جائیں۔ میرے خیال میں ایسی کارروائی کا ضرر اس کے نفع سے اقرب اور اسرع الوقوع ہے (۷۷۲ الا ماشاء اللہ ۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ یورپ اور امریکہ نے اسلام پر اعتراضات کرنے کا ایک بڑا ذخیرہ پادریوں سے حاصل کیا ہے اور ان کا فلسفہ اور طبعی بھی ایک الگ ذخیرہ نکتہ چینی کا رکھتا ہے۔ میں نے دریافت کیا ہے کہ تین ہزار کے قریب حال کے زمانہ نے وہ مخالفانہ باتیں پیدا کی ہیں جو اسلام کی نسبت بصورت اعتراض کبھی گئی ہیں حالانکہ اگر مسلمانوں کی لاپرواہی کوئی بد نتیجہ پیدا نہ کرے تو ان اعتراضات کا پیدا ہونا اسلام کے لئے کچھ خوف کا مقام نہیں۔ بلکہ ضرور تھا کہ وہ پیدا ہوتے تا اسلام اپنے ہر ایک پہلو سے چمکتا ہوا نظر آتا لیکن ان اعتراضات کا کافی جواب دینے کے لئے کسی منتخب آدمی کی ضرورت ہے جو ایک دریا معرفت کا اپنے صدر منشرح میں موجود رکھتا ہو جس کی معلومات کو خدائے تعالیٰ کے الہامی فیض نے بہت وسیع اور عمیق کر دیا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کام ان لوگوں سے کب ہو سکتا ہے جن کی سماعی طور پر بھی نظر محیط نہیں اور ایسے سفیر اگر یورپ اور امریکہ میں جائیں تو کس کام کو انجام دیں گے اور مشکلات پیش کردہ کا کیا حل کریں گے۔ اور ممکن ہے کہ اُن کے جاہلانہ جوابات کا اثر معکوس ہو جس ۷۷۳﴾ سے وہ تھوڑا سا ولولہ اور شوق بھی جو حال میں امریکہ اور یوروپ کے بعض منصف دلوں میں