ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 437
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۷ ازالہ اوہام حصہ دوم نہیں آتے بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ دنیا میں آکر پھر چالیس آیا پینتالیس برس زندہ رہیں گے پھر دوسری حدیث مسلم کی ہے جو جابر سے روایت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے۔ وعن جابر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول قبل ان يموت بشهر تسئلوني عن الساعة وانما علمها عند الله واقسم بالله ما على الارض مــن نـفـس منفوسة يأتي عليها مائة سنة وهي حية - رواه مسلم۔ اور روایت ہے جابر سے کہ کہا سنا میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ کوئی ایسی زمین پر مخلوق نہیں جو اس پر سو برس گزرے اور وہ زندہ رہے۔ اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ جو شخص زمین کی مخلوقات میں سے ہو وہ شخص سو برس کے بعد زندہ نہیں رہے گا۔ اور ارض کی قید سے مطلب یہ ہے کہ تا آسمان کی مخلوقات اس سے باہر نکالی جائے لیکن ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان کی مخلوقات میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ زمین کی مخلوقات (۶۲۵) اور ماعلی الارض میں داخل ہیں۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی جسم خاکی زمین پر رہے تو فوت ہو جائے گا اور اگر آسمان پر چلا جائے تو فوت نہیں ہوگا کیونکہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا تو خود بموجب نص قرآن کریم کے ممتنع ہے بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر پیدا ہوا اور خاک میں سے نکلا وہ کسی طرح سو برس سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔ (۳۰) تیسویں آیت یہ ہے اَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ ۔۔۔۔ قُلْ سُبْحَانَ رَبّى هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ۔ یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لے آویں گے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھاوے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی جسم خاکی کو ا بنی اسرائیل : ۹۴