ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 414
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۴ ازالہ اوہام حصہ دوم یہی ہے کہ وہ بھی موت کے بعد ہی اُٹھایا گیا تھا۔ پھر لکھتے ہیں کہ شیعہ کا یہ بھی قول ہے کہ آسمان سے آنے والا عیسی کوئی بھی نہیں در حقیقت مہدی کا نام ہی عیسی ہے پھر بعد اس کے تحریر فرماتے ہیں کہ بعض صوفیوں نے اپنے کشف سے اسی کے مطابق اس حدیث کے معنے ك لَا مَهْدِى إِلا عیسی یہ کئے ہیں کہ مہدی جو آنے والا ہے درحقیقت عیسی ہی ہے کسی اور عیسی کی حاجت نہیں جو آسمان سے نازل ہو۔ اور صوفیوں نے اس طرح آخرالزمان کے ۵۸۲) مہدی کو عیسی ٹھہرایا ہے کہ وہ شریعت محمدیہ کی خدمت کے لئے اُسی طرز اور طریق سے آئے گا جیسے عیسی شریعت موسویہ کی خدمت اور اتباع کے لئے آیا تھا۔ پھر صفحہ ۴۳۱ میں لکھتے ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ عیسی پر اس کے نزول کے بعد رسولوں کی طرح وحی نبوت نازل ہوتی رہے گی جیسا کہ مسلم کے نزدیک نواس بن سمعان کی حدیث میں ہے کہ یقتل عيسى الدجال عند باب لد الشرقي فبينهما هم کذالک اذ اوحى الله تعالى الى عيسى بن مریم یعنی جب عیسی و قبال کو قتل کرے گا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کرے گا۔ پھر لکھتے ہیں کہ وحی کا لانے والا جبرائیل ہوگا کیونکہ جبرائیل ہی پیغمبروں پر وحی لاتا ہے۔ اس تمام تقریر سے معلوم ہوا کہ چالیس سال تک برابر جو مدت توقف حضرت مسیح کی دنیا میں بعد دوبارہ آنے کے لئے قرار دی گئی ہے حضرت جبرائیل وحی الہی لے کر نازل ہوتے رہیں گے۔ اب ہر یک دانشمند اندازہ کر سکتا ہے کہ جس حالت میں کئی میں برس تیں تھیں جزو (۵۸۳) قرآن شریف کی نازل ہوگئی تھیں تو بہت ضروری ہے کہ اس چالیس برس میں کم سے کم پچاس جزو کی کتاب اللہ حضرت مسیح پر نازل ہو جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے تو ارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے۔ اور جو امرمستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے فتد تر ۔