ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 407
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۷ ازالہ اوہام حصہ دوم پھر صفحہ ۴۲۵ میں فرماتے ہیں کہ اس بات پر تمام سلف و خلف کا اتفاق ہو چکا ہے کہ عیسی (۵۶۹ جب نازل ہوگا تو اُمت محمدیہ میں داخل کیا جائے گا۔ اور فرماتے ہیں کہ قسطلانی نے بھی مواہب لدنیہ میں یہی لکھا ہے اور عجب تریہ کہ وہ اُمتی بھی ہو گا اور پھر نبی بھی لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز اُمتی نہیں ہو سکتا ۔ اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بکلی ممتنع ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ الله لا یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔ ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ اُمتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدائے تعالیٰ نبیوں سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور اُمم میں بطور بر زخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ اگر چہ کامل طور پر اُمتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضرور ہے کہ ۵۷۰ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔ اب سمجھنا چاہیے کہ چونکہ مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں نصاری اور یہود کے خیالات باطلہ زہر ہلاہل کی طرح تمام دنیا میں سرایت کر جائیں گے اور نہ ایک راہ سے بلکہ ہزاروں راہوں سے اُن کا بداثر لوگوں پر پہنچے گا اور اس زمانہ کے لئے پہلے سے احادیث میں خبر دی گئی تھی کہ عیسائیت اور یہودیت کی بُری خصلتیں یہاں تک غلبہ کریں گی کہ مسلمانوں پر بھی اس کا سخت اثر ہوگا ، مسلمانوں کا طریقہ ، مسلمانوں کا شعار مسلمانوں کی وضع بکلی یہود و نصاری سے مشابہ ہو جائے گی اور جو عادتیں یہود اور نصاری کو پہلے ہلاک کر چکی ہیں وہی عادتیں اسباب تاثر کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے مسلمانوں میں آجائیں گی ۔ النساء : ۶۵