ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 365

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۶۵ ازالہ اوہام حصہ دوم کر کے شائع کئے ۔ رسالہ فتح اسلام کے ۴۶ صفحہ کے حاشیہ کو پڑھ کر دیکھو کہ اکیلس سال میں ان لوگوں نے اپنے پر تلیس خیالات کے پھیلانے کے لئے سات کروڑ سے کچھ زیادہ کتا بیں مفت تقسیم کی ہیں تا کسی طرح اسلام سے لوگ دستبردار ہو جائیں اور حضرت مسیح کو خدامان لیا جائے۔ اللہ اکبر اگر اب بھی ہماری قوم کی نظر میں یہ لوگ اول درجہ کے دجال نہیں اور ان کے الزام کے لئے ایک بچے مسیح کی ضرورت نہیں تو پھر اس قوم کا کیا حال ہوگا۔ دیکھو! اے غافلو دیکھو!! کہ اسلامی عمارت کے مسمار کرنے کے لئے کس درجہ کی یہ کوشش کر رہے۔ اور کس کثرت سے ایسے وسائل مہیا کئے گئے ہیں اور اُن کے پھیلانے میں اپنی (۴۹۴) جانوں کو بھی خطرہ میں ڈال کر اور اپنے مال کو پانی کی طرح بہا کر وہ کوششیں کی ہیں کہ انسانی طاقتوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے اور پاکیزگی کے برخلاف منصوبے اس راہ میں ختم کئے گئے اور سچائی اور ایمانداری کے اُڑانے کے لئے طرح طرح کی سرنگیں طیار کی گئیں اور اسلام کے مٹا دینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام بار یک باتیں نہایت درجہ کی جانکاہی سے پیدا کی گئیں ۔ ہزار ہا قصے اور مباحثات کی کتابیں محض افترا کے طور پر اور محض اس غرض سے بنائی گئیں تا اگر اور طریق سے نہیں تو اسی طریق سے دلوں پر بداثر پڑے۔ کیا کوئی ایسار ہرنی کا طریق ہے جو ایجاد نہیں کیا گیا ؟ ۔ کیا کوئی ایسی سبیل گمراہ کرنے کی باقی ہے جس کے یہ موجد نہیں ؟ پس ظاہر ہے کہ یہ کر سچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں اور سحر کے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو بجز اول درجہ کے دجال کے جو دجال معہود ہے اور کسی سے ظہور پذیر نہیں ہو سکتیں۔ لہذا انہیں لوگوں کو جو پادری صاحبوں کا گروہ ہے دجال معہود ماننا پڑا۔ اور جبکہ ہم دنیا کے اس ﴿۴۹۵ اکثر حصہ کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں جو گذر چکا تو ہماری نظر اس استقرائی شہادت کو ساتھ لے کر عود کرتی ہے کہ زمانہ کے سلسلہ گذشتہ میں جہاں تک پتہ مل سکتا ہے دجالیت کی صفت